صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 483 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 483

صحيح البخاری جلد ا ۴۸۳ - كتاب الصلوة عَلَى سَقْفِ الْمَسْجِدِ بِصَلَاةِ الْإِمَامِ نے مسجد کی چھت پر امام کی اقتداء میں نماز پڑھی اور وَصَلَّى ابْنُ عُمَرَ عَلَى الثَّلْجِ ۔ حضرت ابن عمرؓ نے برف پر نماز پڑھی۔ ۳۷۷ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ۳۷۷ : ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ سفیان نے ہمیں بتلایا۔ کہا: ابوحازم (بن دینار) نے قَالَ سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ مِّنْ أَيِّ شَيْءٍ ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: لوگوں نے حضرت الْمِنْبَرُ فَقَالَ مَا بَقِيَ فِي النَّاسِ أَعْلَمُ سہل بن سعد سے پوچھا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ) مِنِّي هُوَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ عَمِلَهُ فُلَانٌ منبرس چیز کا تھا؟ انہوں نے کہا: لوگوں میں اب کوئی مَّوْلَى فُلَانَةٍ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ باقی نہیں رہا جو ؟ ہیں رہا جو مجھ سے زیادہ (اس کے متعلق ) جاننے وَسَلَّمَ وَقَامَ عَلَيْهِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ والا ہو۔ وہ غابہ کے جھاؤ کا تھا۔ فلاں عورت کے فلاں غلام نے اُسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بنایا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ عُمِلَ وَوُضِعَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ كَبَّرَ وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهُ تھا۔ جب وہ بنایا گیا اور رکھا گیا تو تو رسول اللہ صلی اللہ فَقَرَأَ وَرَكَعَ وَرَكَعَ النَّاسُ خَلْفَهُ ثُمَّ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے۔ آپ قبلہ رخ ہوئے اور تکبیر کہی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ۔ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى آپ نے تلاوت کی اور رکوع کیا۔ اور لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے رکوع کیا۔ پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور پیچھے ہٹے اور زمین پر سجدہ کیا۔ پھر منبر پر واپس آگئے ۔ حَتَّى سَجَدَ بِالْأَرْضِ فَهَذَا شَأْنُهُ قَالَ پھر رکوع کیا۔ پھر اپنا سر اٹھایا۔ پھر پیچھے ہٹے اور زمین أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ پر سجدہ کیا اور یہ ہے اس کا قصہ۔ ابو عبداللہ سَأَلَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللهُ عَنْ (بخاری) نے کہا کہ علی بن عبد اللہ کہتے تھے کہ احمد بن هَذَا الْحَدِيْثِ قَالَ فَإِنَّمَا أَرَدْتُ أَنَّ حنبل نے مجھ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَعْلَى تو ( علی بن عبد اللہ ) نے کہا: اس سے میری مراد صرف مِنَ النَّاسِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَكُونَ الْإِمَامُ یہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے اونچے تھے۔