صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 482 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 482

البخارى جلد ا - كتاب الصلوة عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تھا اور میں نے لوگوں کو ذَاكَ الْوَضُوْءَ فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا دیکھا کہ وہ اس وضو کے پانی کے لیے لپک رہے ہیں تَمَسَّحَ بِهِ وَمَنْ لَّمْ يُصِبْ مِنْهُ شَيْئًا جس شخص کو اُس میں سے کچھ مل جاتا وہ اُسے اپنے أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ ثُمَّ رَأَيْتُ بِلَالًا بدن پر ملتا اور جس کو کچھ نہ ملتا وہ اپنے ساتھی کے ہاتھ أَخَذَ عَنَزَةً فَرَكَرَهَا وَخَرَجَ النَّبِيُّ کی تری سے ہی کچھ لے لیتا۔پھر میں نے حضرت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ بلال کو دیکھا کہ انہوں نے ایک برچھی لی۔اور اُسے لی۔زمین میں گاڑ دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سرخ جوڑے میں آستین چڑھائے ہوئے نکلے اور اس برچھی کی طرف منہ کر کے ) لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور میں نے لوگوں اور چار پاؤں کو دیکھا کہ وہ مُشَمِّرًا صَلَّى إِلَى الْعَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّوْنَ مِنْ بَيْنِ يَدَيِ الْعَنْزَةِ۔اُس برچھی کے سامنے سے گزرتے تھے۔اطرافه: ۱۸۷، 495، 499، 501، ٦٣3، ٦٣٤، ٣٥٥٣، ٣٥٦٦، ٥٧٨٦، ٥٨٥٩۔اگر محض انتشار خیالات اور توجہ کا بٹ جانا نماز کے ٹوٹ جانے کا موجب ہوتا تو پھر وہ تو ہر وقت ٹوٹتی رہتی تشریح: ہے خواہ تصویر میں نظر کے سامنے ہوں یا نہ ہوں۔نبی ﷺ نے مسجد کو نقش و نگار کرنے اور تصویروں والے کپڑے پہننے سے صرف اس لئے منع فرمایا ہے کہ تا وہ انتشار خیالات کا مزید باعث نہ بنیں۔مگر ریشمی کپڑا اس لئے ناپسند نہیں فرمایا کہ وہ نماز میں مخل تھا بلکہ کسی اور وجہ سے۔ورنہ عورتوں کے لئے بھی منع ہوتا۔احناف سرخ کپڑے میں نماز پڑھنا مکروہ سمجھتے ہیں۔امام موصوف جواز کا فتوی دیتے ہیں۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۲۹) روایت نمبر ۳۷۶ میں جس واقعہ کا ذکر ہے وہ صلح حدیبیہ کے موقع کا ہے۔بَاب ١٨: الصَّلَاةُ فِي السُّطُوْحِ وَالْمِنْبَرِ وَالْحَشَبِ چھتوں اور منبر اور لکڑی پر نماز پڑھنا قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَرَ الْحَسَنُ بَأْسًا ابو عبد الله ( بخاری ) نے کہا کہ حسن بصری حرج نہیں أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى الْجَمْدِ وَالْقَنَاطِرِ وَإِنْ سمجھتے تھے کہ منجمد پانی اور پلوں پر نماز پڑھی جائے۔جَرَى تَحْتَهَا بَوْلٌ أَوْ فَوْقَهَا أَوْ أَمَامَها خواہ ان کے نیچے یا اوپر یا سامنے پیشاب بہہ رہا ہو۔إِذَا كَانَ بَيْنَهُمَا سُتْرَةٌ وَّ صَلَّى أَبُو هُرَيْرَةَ بشرطیکہ ان کے درمیان اوٹ ہو اور حضرت ابو ہریرہ