صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 457
البخارى- جلد ا ۴۵۷ - كتاب الصلوة ٣٥٠ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۳۵۰ : ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ صَالِحٍ بْنِ مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے صالح بن کیسان كَيْسَانَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ سے۔صالح نے عروہ بن زبیر سے۔عروہ نے حضرت عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ قَالَتْ فَرَضَ الله عائشہ ام المؤمنین سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں کہ اللہ الصَّلَاةَ حِيْنَ فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ تعالٰی نے نماز جب مقرر کی تو دو دورکعتیں حضر اور سفر فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَأُقِرَتْ صَلَاةُ میں مقرر کی تھیں پھر سفر کی نماز برقرار رکھی گئی۔اور حضر السَّفَرِ وَزِيْدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ۔کی نماز بڑھائی گئی۔اطرافه: ٣٩٣٥،١٠٩٠۔تشریح: سابقہ روایت میں پانچ نمازوں کا ذکر ہے۔یہ روایت بتلاتی ہے کہ نماز فریضہ دو دو رکعتیں تھیں اور پھر حضر میں نماز بڑھا دی گئی۔مگر قرآن مجید اس کے برخلاف فرماتا ہے : فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا من الصلوة۔۔۔( النساء:۱۰۲) یعنی حضر کی نماز پڑھائی نہیں گئی بلکہ وہ تو جیسی تھی ویسی رہی۔البتہ سفر کی نماز کم کرنے کی اجازت دی گئی۔حضرت یعلی بن امیہ کی ایک روایت اس اعتراض کو اور بھی مضبوط کرتی ہے۔انہوں نے حضرت عمر سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے بھی تعجب ہوا تھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ - (مسلم، کتاب صلاة المسافرين۔باب صلاة المسافرين وقصرها : ۱۱۰۸) یعنی یہ عطا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کی ہے۔پس تم اللہ کی عطا کو قبول کرو۔ایسا ہی ابوقلابہ کی بھی ایک روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: اِنَّ اللهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلوةِ۔(نسائی، کتاب الصيام، باب ذكر اختلاف معاوية بن سلام (۲۲۳۹) یعنی اللہ تعالٰی نے مسافر کو روزے اور آدھی نماز سے رخصت دی ہے۔ان روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اصل نماز چار رکعتیں تھیں اور نماز سفر میں تخفیف کی گئی۔بعض شارحین نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ حضرت عائشہ کی روایت مذکورہ بالا مرفوع نہیں اور جب نماز فرض کی گئی تو اس وقت وہ موجود نہ تھیں۔نہ معلوم کسی سے انہوں نے سنا ہے یا خود قیاس کیا ہے جو صحیح نہیں۔(فتح الباری۔جزء اول صفحہ ۶۰۲ ) مگر یہ جواب خود غلط ہے۔صحابی کی مرسل روایت بھی حجت سمجھی جاتی ہے۔کتاب المناقب میں بھی حضرت عائشہ کی یہی روایت معمر اور زہری کی سند سے نقل کی گئی ہے۔وہاں یہ الفاظ ہیں : فُرِضَتِ الصَّلَوةُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ هَاجَرَ النَّبِيِّ لا فَفُرِضَتْ أَرْبَعاً وَتُرِكَتْ صَلوةُ السَّفَرِ عَلَى الأُولى۔(بخارى كتاب المناقب باب التاريخ من اين أرخوا التاريخ : ۳۹۳۵) یعنی ہجرت سے پہلے نماز مفروضہ دو رکعت تھی۔پھر ہجرت کے بعد چار رکعتیں ہوئی اور سفر کی نماز پہلی حالت پر رہنے دی گئی۔اس