صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 456
البخارى- جلد ا ۴۵۶ - كتاب الصلوة غالبا اس طرف اشارہ کرنے کے لئے دیا ہے کہ اسراء اور معراج ایک ہی ہیں مگر یہ میچ نہیں۔سورہ بنی اسرائیل مکی زندگی کے آخری حصہ میں نازل ہوئی تھی اور نماز کا حکم اس سے بہت پہلے نازل ہو چکا تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج متعدد بار ہوا ہے اور ان معراجوں کے متعلق روایات آگے آئیں گی۔نیز ان کے متعلق بحث اپنے موقع محل پر ہوگی۔ان شَاءَ اللَّهُ تَعَالٰی یہاں روایت نمبر ۳۴۹ کا تعلق صرف نماز کی مشروعیت اور اس کی کیفیت بیان کرنے سے ہے۔احادیث نبویہ میں نماز مومن کا معراج قرار دی گئی ہے۔(دیکھئے شرح سنن لابن ماجه للسیوطیي۔كتاب الزهد۔باب الامل والاجل) ابتدائی شرط ظاہری پاکیزگی ہے۔اس روایت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ چاک کر کے اس کو پاک وصاف کیا گیا اور پھر اسے حکمت اور ایمان سے بھرا گیا۔اس کے بعد آپ کی روحانی سیر شروع ہوتی ہے۔گویا تزکیہ اس روحانی سیر کی پہلی منزل تھی۔تمام انبیاء کو ان کی باطنی پاکیزگی اور حکمت و ایمان کی وجہ سے تقریباً اس قسم کا روحانی معراج نصیب ہوا۔معراج کے معنے اوپر چڑھنا، ترقی کرنا۔(لسان العرب تحت لفظ عرج) اس روحانی ترقی میں ہر ایک نبی کا جداجدا مقام ہے اور اللہ تعالیٰ کی تجلی ہر نبی پر اس کے اپنے ہی مقام میں اس کے مناسب حال ظاہر ہوتی ہے۔جیسا کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ چھٹے آسمان پر حضرت ابراہیم تھے اور اسی طرح دیگر انبیاء علیہم السلام کے بھی علیحدہ علیحدہ مقامات تھے جو راوی کو بھول گئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام سے او پر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کا مقام معراج تھا اور اللہ تعالیٰ سے بالمشافہ ہم کلامی کا شرف پانے کے بعد جبرائیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سِدْرَةُ الْمُنْتَھی تک لے گئے۔غَشِيَهَا الْوَانٌ : لون کے معنی بیت ، نوعیت، کیفیت۔(لسان العرب تحت لفظ لون ) یعنی وہاں کچھ ایسی کیفیتیں تھیں کہ آپ کو لا ادری کا اقرار کرنا پڑا۔اور یہ وہ انتہائی مقام ترقی تھا جہاں پہنچ کر بشری طاقتیں جواب دے بیٹھتی ہیں اور عقل حیران و دنگ رہ جاتی ہے کہ یہ کیا شان الوہیت ہے۔اسی وجہ سے اس مقام کو سِدْرَةُ الْمُنتَهی کہا گیا ہے۔سڈر کے معنی حیرانگی، نگاہ کا چکا چوند ہونا۔(لسان العرب تحت لفظ سد ر ) گویا سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى انتہائی مشکلات کا مقام ابتلاء ہے جس کے ساتھ انتہائی ترقیات وابستہ ہیں اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ دور بین بوجہ اس کے کہ آپ کو شَدِيدُ الْقُوی نے سکھلایا تھا ، مَازَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى (النجم: ۱۸) اس مقام پر بھی ادھر ادھر نہیں ہوئی۔اپنے مقصد اعلیٰ کو ایک ستارہ کی طرح چمکتے ہوئے سامنے دیکھتی رہی۔آپ کی فطرت ساتویں آسمان یعنی اپنے مقامِ معراج پر پہنچ کر اس کے او پر بھی پرواز کرنے کی جدو جہد کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔یہ خلاصہ ہے اس روایت کا۔آیا یہ نظارہ جسمانی تھا یا روحانی؟ اس کے متعلق آئندہ بحث کی جائے گی۔یہاں قارئین کو ان الفاظ پر غور کرنا چاہئے کہ آپ نے دیکھا کہ آپ کے گھر کی چھت کھولی گئی۔جب یہ نظارہ ختم ہوا تو کیا چھت فی الحقیقت کھولی ہوئی تھی ؟ وہ طشت جو ایمان و حکمت سے بھرا گیا تھا کس قسم کا تھا؟ اور آیا ایمان اور حکمت روحانی چیزیں ہیں یا جسمانی؟