صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 455 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 455

تشریح: البخاری جلد ا ۴۵۵ - كتاب الصلوة كَيْفَ فُرضَتِ الصَّلَوَاتُ : کتاب الصلوۃ کسی آیت کا حوالہ دینے کے بغیر شروع کی گئی ہے جس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ قرآن مجید میں کہیں ذکر نہیں کہ نماز کب اور کس طرح فرض کی گئی تھی۔روایت مذکورہ بالا صرف مشروعیت نماز کی تاریخ بتلانے کے لئے لائی گئی ہے۔اسی لئے عنوانِ باب میں حضرت ابوسفیان کی روایت کا حوالہ دیا گیا ہے۔وہ قریش مکہ میں سے تھے اور کفر کی حالت میں ہر قل کے سامنے انہوں نے بیان کیا: يَأْمُرُنَا بِالصَّلوةِ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کی زندگی میں ہی نماز کا حکم نازل ہوا تھا۔روایت نمبر ۳۴۹ کے الفاظ وَأَنَا بِمَكَّةَ کبھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ معراج جس میں مشروعیت نماز کی کیفیت مذکور ہے؛ آپ کو مکہ معظمہ میں ہوا تھا۔مَرْحَباً بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ بِالْاِبْنِ الصَّالِحِ۔بالاخ الصَّالِحِ: قرآن مجید میں انبیاء کو صالح اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ حیات اُخرویہ میں مزید ترقی کرنے کی پوری پوری صلاحیت اور قابلیت رکھتے ہیں۔صالح کے معنے قابل مناسب (المنجد في اللغة۔تحت لفظ : صلح) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق قرآن مجید میں آتا ہے: و إِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ (البقرة : ۱۳۱) { اور یقیناً آخرت میں بھی وہ صالحین میں سے ہوگا۔} هِيَ خَمْسٌ وَّ هِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَى : یعنی نمازیں باعتبار عدد کے تو پانچ ہیں اور باعتبار ثواب کے پچاس۔یہ اس آیت کی طرف اشارہ ہے : مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا۔(الأنعام : ١٦١) ترجمہ: جو نیکی کرے تو اس کے لیے اس کا دس گنا اجر ہے۔} جس سِدْرَةُ المُنتهی تک آپ پہنچے ہیں اس کا ذکر سورہ نجم میں بھی آتا ہے۔روایت نمبر ۳۴۹ کے الفاظ وَغَشِيَهَا أَلْوَانُ لَا اَدْرِى مَاهِىَ اور ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ کا مقابلہ سورہ نجم کے الفاظ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى اذْيَغْشَى السَدْرَةَ مَا يَغْشَى (النجم : ۱۵-۱۷) ترجمه: آخری حد پر واقع بیری کے پاس۔اس کے قریب ہی پناہ دینے والی جنت ہے۔جب بیری کو اس نے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپ لیا۔} سے کریں تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ معراج وہی ہے جس کی طرف سورہ نجم کی ابتدائی آیتوں میں بھی اشارہ کیا گیا ہے۔آیت وَلَقَدْ رَأَهُ نَزْلَةٌ أُخْرَى عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنتَهى (النجم: (۱۴-۱۵) { جبکہ وہ اسے ایک اور کیفیت میں بھی دیکھ چکا ہے۔آخری حد پر واقع بیری کے پاس بتلاتی ہے کہ یہ معراج دوسرا ہے اور جس معراج کا ذکر ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى۔فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی (النجم: ۹-۱۰) پھروہ نزدیک ہوا۔پھر وہ نیچے اُتر آیا۔پس وہ دو قوسوں کے وتر کی طرح ہو گیا یا اس سے بھی قریب تر میں کیا گیا ہے ، وہ اور معراج ہے۔ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سورہ نجم کے نازل ہونے سے پہلے سِدْرَةُ الْمُنتَهى والا معراج ہو چکا تھا اور یہ سورۃ ابتدائی زمانہ کی سورتوں میں سے ہے۔اس میں بھی عبادت کی تاکیدان الفاظ میں کی گئی ہے: فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا (النجم : ۶۳) پس اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤ اور عبادت کرو } غرض روایت مذکورہ بالا کوسورۃ پنجم کے ساتھ ملا کر دیکھنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نماز کا حکم مکی زندگی کے ابتدائی حصہ میں نازل ہوا تھا۔اسراء اور معراج الگ الگ واقعات ہیں: امام بخاری نے عنوانِ باب میں اس معراج کے لئے اسراء کا حوالہ {