صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 454
البخارى- جلد ا ۴۵۴ - كتاب الصلوة فَرَضَ خَمْسِيْنَ صَلَاةً قَالَ فَارْجِعْ إِلَی نے آپ کے لیے کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيْقُ ذَلِكَ فَرَاجَعَنِى نمازیں فرض کی ہیں۔تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس لوٹ جائیں کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں * فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى رکھے گی۔اس پر میں نے واپس جا کر نظر ثانی کے لئے کہا قُلْتُ وَضَعَ شَطْرَهَا فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ تو اللہ تعالی نے اس میں سے نصف کم کردیں اور میں فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيْقُ ذَلِكَ فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ حضرت موسی کی طرف لوٹا اور میں نے کہا کہ اللہ تعالٰی نے ان میں سے نصف کم کر دی ہیں تو انہوں نے کہا: شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ ارْجِعْ إِلَى اپنے رب سے جا کر دوبارہ کہیں کیونکہ آپ کی اُمت رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيْقُ ذَلِكَ فَرَاجَعْتُهُ (اس کی ) طاقت نہیں رکھے گی۔اس پر میں نے جا کر فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ دوبارہ عرض کی تو اللہ تعالیٰ نے آدھی کم کر دیں۔پھر میں الْقَوْلُ لَدَيَّ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ ان کی طرف واپس آیا اور انہوں نے کہا: اپنے ربّ کے رَاجِعْ رَبَّكَ فَقُلْتُ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَّبِّي ثُمَّ پاس واپس جا ئیں کیونکہ آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھے گی۔پھر میں نے اللہ تعالیٰ سے دوبارہ عرض کی۔انْطَلَقَ بِي حَتَّى انْتَهَى بِي إِلَى سِدْرَةِ تو فرمایا: وہ پانچ بھی ہیں اور پچاس بھی ہیں۔میرے ہاں الْمُنْتَهَى وَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَّا أَدْرِي مَا هِيَ بات تبدیل نہیں ہوتی۔تب میں حضرت موسی کے پاس ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيْهَا حَبَايِلُ اللُّؤْلُؤِ لوٹ آیا اور انہوں نے کہا: جائیں اپنے رب سے پھر کہیں۔میں نے کہا: اب میں اپنے رب سے شرما گیا ہوں۔پھر جبرائیل مجھے لے کر چل پڑے اور آخر مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے اور کئی رنگوں نے سدرۃ المنتہی کو وَإِذَاتُرَابُهَا الْمِسْكُ۔ڈھانپا ہوا تھا۔میں نہیں جانتا کہ وہ کیا چیز تھی ؟ پھر مجھے اطرافه: ١٦٣٦، ٣٣٤٢۔جنت میں داخل کیا گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں موتیوں کی لڑیاں ہیں اور کیا دیکھتا ہوں کہ اس کی مٹی کستوری ہے۔لفظ ذَلِكَ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۵۹۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔