صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 449 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 449

صحيح البخاري - جلد ا وم - كتاب التيمم يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هَكَذَا فَضَرَبَ ہاتھ زمین پر ایک بار مارے پھر انہیں جھاڑا۔ پھر بِكَفِّهِ ضَرْبَةً عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ نَفَضَهَا دونوں ہاتھوں سے مسح کیا ، اپنے بائیں ہاتھ سے اپنی ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا ظَهْرَ كَفِهِ بِشِمَالِهِ أَوْ ہتھیلی کی پشت پر یا اپنی تھیلی سے اپنے بائیں ہاتھ کی پشت پر ۔ پھر ان دونوں سے اپنے منہ پر سح کیا؟ تو ظَهْرَ شِمَالِهِ بِكَفِّهِ ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا حضرت عبداللہ نے کہا: کیا آپ نے حضرت عمر کو وَجْهَهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَفَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ نہیں دیکھا کہ وہ حضرت عمار کی بات سے مطمئن نہیں يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ وَزَادَ يَعْلَى عَنِ ہوئے تھے۔ اور یعلی نے اعمش سے، اعمش نے شقیق الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ سے روایت کرتے ہوئے یہ بات زائد بیان کی ہے اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى فَقَالَ أَبُو مُوسَی کہ میں حضرت عبد اللہ اور حضرت ابو موسی کے ساتھ أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ إِنَّ تھا تو حضرت ابوموسی نے کہا: کیا آپ نے حضرت عمار رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي أَنَا کو حضرت عمرؓ سے یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ رسول اللہ وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَكْتُ بِالصَّعِيدِ صلى اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو بھیجا تھا اور میں فَأَتَيْنَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جنبی ہو گیا تھا تو میں مٹی میں لوٹا۔ پھر ہم رسول اللہ صلی فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نے آپ کو یہ بات وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ وَاحِدَةً۔ بتلائی تو آپ نے فرمایا: تمہیں صرف اس طرح کافی تھا اور آپ نے اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔ اطرافه ۳۳۸، ۳۳۹، ۳۷۰، ۳۷۱، ۳۷۲، 343، ٣٤٥، ٣٤٦۔ یح آٹھویں باب کا عوان بھی ایک اختلافی مسئلہ کی وجہسے قائم کیا گیا ہے۔ جن علاء نے وضو پر یم کا قیاس کیا ہے انہوں نے دو بار زمین پر ہاتھ مارنا ضروری سمجھا ہے ایک بار منہ پر مسح کرنے کے لئے اور دوسری بار ہاتھوں پر۔ جمہور کا یہی مذہب ہے۔ ہے یعنی امام مالک، امام شافعی اور امام ابو حنیفہ وغیر ہم کا۔ بداية المجتهد كتاب التيمم۔ الباب الرابع المسئلة الثانية اختلف العلماء في عدد الضربات ) مگر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فقہی قیاس پر حضرت عمار کی حدیث کو ترجیح دی ہے کیونکہ اس میں ارشادِ نبوی اس بارے میں واضح ہے۔ امام موصوف مسائل فقہیہ میں بموجب ارشاد نبوی يَسِّرُوا وَلَا تُعَبِّرُوا سہولت کو ترجیح دیتے ہیں اور یہی آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ سے ثابت ہے کہ آپ سہولت کے پہلو کو اختیار کیا کرتے تھے۔ لفظ " بكفه بگفہ“ کے علاوہ بگفیہ“ کے الفاظ سے بھی یہ روایت آتی ہے۔ (عمدۃ القاری جزء چہارم صفحہ ۳۷) ترجمہ بگفیہ کے مطابق ہے۔ وو