صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 432 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 432

صحيح البخاري - جلد ا ۴۳۲ - كتاب التيمم الله وَسَلَّمَ قَالَ أُعْطِيْتُ خَمْسًا لَّمْ يُعْطَهُنَّ جلایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: پانچ ایسی باتیں مجھے دی گئی أَحَدٌ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيْرَةَ ہیں کہ مجھ سے پہلے وہ کسی کو بھی نہیں دی گئیں ۔ رعب شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا سے میری مدد کی گئی ہے جو مہینہ بھر کی مسافت تک اثر کرتا ہے اور ساری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک کرنے وَطَهُورًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِّنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ والی بنائی گئی ہے۔ پس میری امت میں سے جس شخص کو الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْمَغَانِمُ بھی (جہاں بھی نماز کا وقت آجائے وہ وہیں پڑھ لے وَلَمْ تَحِلُّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَأُعْطِيْتُ اور میرے لیے قیمتیں حلال کی گئی ہیں اور مجھ سے پہلے الشَّفَاعَةَ وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ کسی کے لیے حلال نہیں تھیں اور مجھے سفارش کرنے کا خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً۔ اختیار دیا گیا ہے اور نبی پہلے محض اپنی قوم کی طرف ہی بھیجا جاتا تھا اور میں تمام لوگوں کے لئے بھیجا گیا ہوں ۔ اطرافه: ٤٣٨، ۳۱۲۲ قائم مقام ہے اور تشریح: کتاب الوضوء باب کی شرح میں یہ امر واضع کیا گیا ہے کہ تیم کن معنوں؟ ان معنوں میں وضو کا قائم مقام - پاکیزہ مٹی کو پانی اور وضو کے ساتھ کیا نسبت ہے۔ روایت نمبر ۳۳۴ میں وہ ضرورت بیان کی گئی ہے کہ جس کی وجہ سے تیمم کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ نیز وہ تاریخ بھی جب پہلے پہل اسلام میں تیمیم کی اجازت ہوئی ۔ اس ضمن میں امام بخاری دو روایتیں یکے بعد دیگرے لائے ہیں۔ پہلی روایت میں ہار گم ہونے کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ افک کے واقعہ کے بعد کا ہے اور ان دونوں دفعہ ہارگم ہوا ؟ بار گم ہوا تھا۔ جیسا کہ حضرت اسید بن حضیر کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے۔ پہلے واقعہ کے سبب سے احکام ایک نازل ہوئے تھے جو سورہ نور میں ہیں اور اس موقع پر تمیم کا حکم نازل ہوا تھا۔ روایت نمبر ۳۳۶ میں حضرت اُسید کے الفاظ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَ هِينَهُ قابل غور ہیں۔ جو در ہیں۔ جو سابقہ اٹک کے واقعہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ حضرت ابوبکر نے جو نا راضگی کا اظہار کیا ہے وہ بھی اسی وجہ سے کیا ہے کہ ایک دفعہ پہلے بھی حضرت عائشہ بہار گم کر چکی تھیں۔ تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء اول صفحہ ۵۶۳ - ۵۶۴) فَانْزَلَ اللهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ سے کون سی آیت مراد ہے آیا سورۂ نساء والی یاسورہ کا ئندہ والی عنوان باب میں امام بخاری نے جس آیت کا حوالہ دیا ہے وہ سورۂ نساء کی ہے۔ جو یوں شروع ہوتی ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ وَ انْتُمْ سُكَاری ۔۔۔ ( النساء: ۴۴) اس میں صرف تیم کا ذکر ہے، وضو کا نہیں۔ بَيْدَاء اور ذَاتُ الْجَيْش دو مقام ہیں جو مدینہ طیبہ کے قریب اس راستے پر واقع ہیں جو مکہ معظمہ کو جاتا ہے۔ بَيْدَاء ہی ذُو الْحُلَيْفَہ ہے اور ذَاتُ الْجَيْش اس کے پرے ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۵۶۱)