صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 433
حيح البخاري - جلد ا م - كتاب التيمم حضرت اُسید بن حضیر انصاری اوس عقبہ ثانیہ کے نقیبوں میں سے ایک نقیب تھے۔انہیں ہارڈھونڈ نے والوں کا امیر بنا کر بھیجا گیا تھا۔(فتح الباری الجزء الاول صفحہ ۵۶۳) (عمدۃ القاری الجزء الرابع صفحه ۵) دوسری روایت نمبر ۳۳۵) جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پانچ خصوصیتیں مذکور ہیں اصل مضمون سے یہ تعلق رکھتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بر خلاف دیگر انبیاء کے تمام بنی نوع انسان کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔اس لئے آپ کو ایسے احکام دیے گئے ہیں جن میں مختلف حالات اور ضرورتیں ملحوظ رکھی گئی ہیں۔آپ کی شریعت انسان کے لئے بار زحمت نہیں بلکہ رحمت ہے بوجہ ان سہولتوں کے جو اس میں ہیں۔ان سہولتوں میں سے ایک سہولت یہ ہے: جُعِلَتْ لِىَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَ طَهُورًا۔طہور کے معنی پاک اور پاک کرنے والی یعنی وضو کا کام بھی دیتی ہے۔زمین در حقیقت ہر گندگی کو اپنے اندر جذب کر کے اس کو پاک نباتاتی شکل دیتی ہے۔(دیکھئے شرح کتاب الوضوء باب ۲) دیگر مذاہب میں عبادت کے لئے خاص معابد کا ہونا ضروری ہے۔باقی تین خصوصیتوں کی تشریح مناسب موقع ومحل پر ہوگی۔باب ۲ : إِذَا لَمْ يَجِدْ مَاءً وَلَا تُرَابًا جب نہ پانی پائے اور نہ مٹی ٣٣٦: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى قَالَ :۳۳۶ ہم سے زکریا بن بیٹی نے بیان کیا کہا: عبد اللہ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا بن تمیر نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ہشام بن هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا عروہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ حضرت اسماء سے گلے کا ہار عاریہ لیا وہ (ہار) گم ہو گیا تو فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا اور اس نے وہ ڈھونڈ رَجُلًا فَوَجَدَهَا فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ لیا۔اسی اثناء میں ان کو نماز کا وقت بھی آ گیا اور ان کے وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَّاءٌ فَصَلَّوْا فَشَكَوْا ذَلِكَ ساتھ پانی نہ تھا۔انہوں نے نماز پڑھ لی اور رسول اللہ إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ﷺ کے پاس اس کی شکایت کی۔اس پر اللہ تعالی نے فَأَنْزَلَ اللهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ تیم کی آیت نازل فرمائی۔اور اسید بن حضیر نے حضرت عائشہ سے کہا: اللہ آپ کو بہتر بدلہ دے۔بخدا آپ کے ساتھ کوئی وقوعہ بھی ایسا نہیں ہوا، جسے آپ نے برا منایا ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کے لیے اور مسلمانوں کے حُضَيْرٍ لَّعَائِشَةَ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِيْنَهُ إِلَّا جَعَلَ اللهُ ذَلِكِ لَكِ وَلِلْمُسْلِمِيْنَ فِيْهِ خَيْرًا۔لیے بھلائی نہ رکھی ہو۔اطرافة: ٣٣٤ ٣٦٧٢ ، ۳۷۷۳، ٤٥۸۳، ٤٦٠٧ ، ٤٦٠٨، ٥١٦٤، ٥٢٥٠، ٥٨٨٢، ٠٦٨٤٤ ٠٦٨٤٥