صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 430
حيح البخاري - جلد ا سوم - كتاب التيمم كِتَابُ التَّيَمُّمِ وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: فَلَمُ تَجِدُوا مَاءً۔۔۔الآية فَتَيَمَّمُوا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا یعنی پانی نہ پاؤ تو تم پاکیزہ مٹی تلاش کرو اور اس سے بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِّنْهُ (المائدة: ۷) اپنے منہ اور ہاتھوں پر مسح کرو۔باب ۱ ٣٣٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۳۳۴: ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عبدالرحمن بن قاسم الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سے رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي روایت کی۔وہ کہتی تھیں کہ ہم رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم بَعْضٍ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ کے ساتھ آپ کے سفروں میں سے کسی ایک سفر میں بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ نکلے۔جب بَيْدَاء يَا ذَاتُ الْجَيْش مقام میں رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی پہنچے تو میرا ایک ہارٹوٹ کر گر گیا۔رسول اللہ صلی اللہ الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَی علیہ وسلم اس کے ڈھونڈنے کے لیے ٹھہر گئے اور لوگ مَاءٍ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے اور وہ پانی کے نزدیک نہ اور فَقَالُوْا أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ تھے۔اس پر لوگ حضرت ابو بکر صدیق کے پاس أَقَامَتْ بِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آئے اور کہا: کیا آپ نہیں دیکھتے کہ حضرت عائشہ وَسَلَّمَ وَالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ ولَيْسَ نے کیا کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو مَعَهُمْ مَّاءٌ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ ٹھہرا دیا اور وہ پانی کے نزدیک نہیں ہیں اور نہ اُن کے