صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 429 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 429

صحيح البخاری جلد ) ۴۲۹ ٦ - كتاب الحيض شریح : مَا تَتْ فِي بَطْنٍ : بوجہ ولادت کے۔فی کے معنی بسبب ـ كتاب الجنائز باب الصلاة على النفساء اذا ماتت في نفاسها میں بھی یہ روایت نمبر ۳۳۲ لائی گئی ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں : فی نفاسها۔یعنی بوجہ زچگی کے۔جننے کے وقت جو خون آتا ہے، اس کو نفاس کہتے ہیں۔اس میں بھی عورت کو نماز چھوڑنی پڑتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورت کی نماز جنازہ پڑھی جو حالت نفاس میں مرگئی تھی۔امام بخاری اس واقعہ سے ایک دقیق استدلال کر رہے ہیں اور وہ یہ کہ نماز کے لوازمات میں سے یہ بات بھی ہے کہ جس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی جائے، وہ پاکیزہ ہو، نجس نہ ہو۔حالت نفاس میں وفات شدہ عورت کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ کر کے اس کا جنازہ پڑھا۔اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ نجس نہ تھی۔امام موصوف نے اس نکتہ کی طرف توجہ دلانے کے لیے عنوانِ باب ۲۹ میں یہ الفاظ بڑھائے ہیں: وَسُنتها۔یعنی نماز جنازہ پڑھنے کا طریقہ - فَقَامَ فِي وَسَطِهَا : آپ اس کے عین درمیان میں کھڑے ہوئے۔عنوان باب کے مذکورہ بالا الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ روایت نمبر ۳۳۲ سے کسی ایسی بات کا استدلال کرنا چاہتے ہیں جس کا تعلق ایک اعتبار سے تو سابقہ باب کے مضمون کے ساتھ ہے۔یعنی حالت طہر کے ساتھ اور ایک اعتبار سے نماز میں قبلہ رُخ ہونے کے ساتھ۔یہ امر کہ انتیسویں باب کا یہی مقصد ہے جس کا ابھی ذکر کیا جا چکا ہے، اس سے بھی ظاہر ہے کہ تیسویں باب کا کوئی عنوان قائم نہیں کیا اور اس میں صرف ایک روایت لائے ہیں ، جس کا مضمون بھی یہی ہے کہ حائضہ اپنی ذات میں نا پاک نہیں ہوتی اور حضرت میمونہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حالت حیض میں آپ کے سامنے لیٹی ہوتیں اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے۔نہ صرف یہی بلکہ سجدہ کرتے وقت حضرت میمونہ کا کپڑا بھی آپ کو چھوتا تھا۔ان دونوں بابوں سے ان علماء کے نقطہ خیال پر ایک تنقیدی جرح کی ہے جو مستحاضہ کے نجس ہونے یا نہ ہونے کے متعلق فضول بحثوں میں پڑ گئے ہیں۔حالت حیض و نفاس و استحاضہ میں طہارت و نجاست بالکل ایک نسبتی امر ہے۔مستحاضہ کو جو نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔اس سے یہ استدلال کرنا کہ نماز چونکہ اعلیٰ چیز ہے اس لیے جماع کی اجازت بدرجہ اولیٰ ہے، قیاس مع الفارق ہے۔ایک اعتبار سے عورت حالت نفاس میں ہوتے ہوئے بھی پاک ہے اور اس اعتبار سے حائضہ بھی پاک ہے۔مگر ایک خاص اعتبار سے پاک ہونے کے یہ معنے نہیں کہ وہ ہر اعتبار سے پاک ہے۔یہ وہ لطیف استدلال ہے جس کی طرف امام بخاری نے مذکورہ بالا بابوں میں توجہ منعطف کی ہے۔اس استدلال کے ایک حصہ کی طرف فتح الباری میں بھی بحوالہ ابن رشید اشارہ کیا گیا ہے۔(فتح الباری جلد اول صفحہ ۵۵۷)