صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 426 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 426

صحيح البخاری جلد ) ۴۲۶ ٢ - كتاب الحيض ۳۲۹ : حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ قَالَ :۳۲۹ : ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا۔انہوں نے حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ کہا: وہیب نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عبداللہ بن عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طاؤس سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کی۔رُخّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَنْفِرَ إِذَا حَاضَتْ۔انہوں نے کہا کہ حائضہ کو اجازت دی گئی ہے کہ اگر اطرافه: ١٧٥٥، ١٧٦٠- اسے حیض آئے تو وہ کوچ کرے۔٣٣٠: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ فِي ۳۳۰ (ابن طاؤس نے کہا ) اور حضرت ابن عمر أَوَّلِ أَمْرِهِ إِنَّهَا لَا تَنْفِرُ ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ابتداء میں کہا کرتے تھے کہ وہ کوچ نہ کرے۔پھر میں تَنْفِرُ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ رَخَّصَ لَهُنَّ۔نے ان کو کہتے سنا کہ وہ کوچ کرے۔رسول اللہ ﷺ طرفه: ١٧٦١۔نے انہیں اجازت دی ہے۔تشریح: سے یہ مسئلہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اگر طواف زیارت کر لیا جائے اور پھر عرفات سے لوٹنے کے بعد طواف وداع کرنے سے پہلے کسی عورت کو حیض آجائے تو وہ بغیر طواف کیے چل پڑے، انتظار نہ کرے۔مگر یہ مسئلہ ثابت کرنا ان کا مقصد نہیں۔اس کا ذکر باب ۱۸ میں ہو چکا ہے اور کتاب الحج (کتاب المناسک) میں بھی اپنے محل پر آئے گا۔یہاں صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ عمرہ بنت عبدالرحمان انصاریہ جن کی روایت سابقہ باب میں ہے اور بظاہر عروہ کی روایت کے خلاف ہے وہ نہ صرف ثقہ بلکہ احادیث نبویہ سے واقف بھی ہیں۔چنانچہ مسئلہ مذکور کے متعلق حضرت ابن عمر ایک مدت تک نا واقف رہے اور وہ اس کے خلاف اور فتویٰ دیا کرتے تھے۔مگر بعد میں انہوں نے اپنی غلطی کی اصلاح کرلی۔پہلے انہوں نے یا تو یہ روایت سنی نہ تھی یا بھول گئے تھے۔ایک جلیل القدر صحابی کے بالمقابل عمرہ بنت عبد الرحمان مسئلہ مذکور کے بارہ میں اپنے علم کی بناء پر صائب رائے رکھتی تھیں۔بوجہ اس کے کہ راو یہ مذکورہ ثقہ ہیں اس لئے سابقہ باب میں حضرت ام حبیبہ کے بارے میں ان کی روایت کے متعلق تاویل کی راہ اختیار کرنا ضروری تھا۔الْمَرْأَةُ تَحِيضُ بَعْدَ الْإِفَاضَةِ : باب ۲۷ کے عنوان سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاریؒ اس بَاب ٢٨ : إِذَا رَأَتِ الْمُسْتَحَاضَةُ الطُّهْرَ جب مستحاضہ طہر دیکھے قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي وَلَوْ حضرت ابن عباس نے کہا ( کہ جب مستحاضہ طہر دیکھے سَاعَةً وَيَأْتِيْهَا زَوْجُهَا إِذَا صَلَّتْ، تو وہ نہائے اور نماز پڑھے۔گودن میں ایک گھنٹہ (ہی