صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 425 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 425

صحيح البخاری جلد ) ۴۲۵ ٢ - كتاب الحيض ہے ( نمبر ۳۲۰) اور ایک یہ جو عمرہ سے مروی ہے۔ اول الذکر روایت میں ارشاد نبوی کے الفاظ نقل کئے گئے ہیں۔ ذلک عِرُقَ وَ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِى الصَّلوةَ ، وَإِذَا اَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلَّى اس میں حیض بند ہونے پر نہانے کا حکم دیا گیا ہے، نہ کہ ہر نماز کے لیے۔ مؤخر الذکر روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کا ذکر نہیں بلکہ صیغہ غائب میں ان کا مفہوم ادا کیا گیا ہے اور وہ بھی واضح طور پر نہیں ۔ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ ۔ یہ روایت عروہ کی روایت نمبر ۳۲۵ کے مقابل پر غیر معین ہے ۔ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلوةِ ۔ وہ ہر نماز کے لیے نہایا کرتی تھیں اور یہ حضرت ام حبیبہ کا اپنا فعل تھا۔ امام موصوف نے اس طرح دونوں روایتیں ہمارے سامنے رکھ کر فیصلہ ہم پر چھوڑ دیا ہے جو بالکل واضح ہے۔ یعنی یہ کہ جمہور کا مذہب صحیح ہے اور اگر کوئی خود نہانا پسند کرتا ہے تو کوئی مانع نہیں ۔ اس طرح انہوں نے یہ دونوں روایتیں واؤ حرف عاطف سے جمع کر کے بتلایا ہے کہ ان میں کوئی تناقض نہیں۔ باب ۲۷ : الْمَرْأَةُ تَحِيْضُ بَعْدَ الْإِفَاضَةِ عورت کو عرفات سے لوٹنے کے بعد حیض آئے ۳۲۸ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۳۲۸ ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي انہوں نے کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عبد اللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمر و بن حزم سے عبداللہ أَبِيْهِ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ نے اپنے باپ سے، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمان عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سے عمرہ نے حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ بیوی سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ عليه وسلم سے کہا: یا رسول اللہ ! کیسی کی بیٹی حضرت حُيَةٍ قَدْ حَاضَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى صفیہ کو حیض آگیا ہے تو آ آگیا ہے تو آپؐ نے فرمایا: شاید وہ ہم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا أَلَمْ تَكُنْ روک رکھے گی۔ کیا اس نے تمہارے ساتھ طواف طَافَتْ مَعَكُنَّ فَقَالُوْا بَلَى قَالَ فَاخْرُجِي۔ نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: پھر چلو۔ ہمیں إطرافه: ۲۹٤، ۳۰۵، 16، 17، 19، 1516، 1518، 1556، 1560، 1561، ،١٧٥٧، ١٧٦٢، ١٧٧١ ، ۱۷۳۳ ، ۱۷۲۰ ،۱۷۰۹ ، ۱١٥٦٢ ، ١٦٣٨، ٦٥٠ ،٤٣، ٤٤٠١۹۵ ،۲۹۸۴ ،۲۹۵۲ ،۱۷۸۸ ،۱۷۸۷ ،۱۷۸۶ ،۱۷۸۳ ،۱۷۷۲ ٤٤٠٨ ، ٥٣٢٩، ٥٥٤٨ ، ٥٥٥٩ ، ٦١٥٧، ٧٢٢٩