صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 427
صحيح البخاری جلد ) الصَّلَاةُ أَعْظَمُ۔۴۴۷ ٦ - كتاب الحيض بند ہو) اور جب اس نے نماز پڑھ لی تو پھر اس کا خاوند بھی اس کے پاس آئے۔نماز تو اس سے بڑھ کر ہے۔۳۳۱: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالَ ۳۳۱ ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ( کہا: ) حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ہمیں زہیر نے بتلایا۔انہوں نے کہا: ہشام بن عروہ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عروہ سے، عروہ نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْبَلَتِ حضرت عائشہ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں کہ نبی نے الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ نے فرمایا: جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب بند فَاغْسِلِيْ عَنْكِ الدَّمَ وَصَلَّيْ۔اطرافه ٢٢٨، ٣٠٦، ٣٢٠، ٣٢٥۔ہو جائے تو اپنے بدن سے خون دھوڈالو اور نماز پڑھو۔تشریح : إِذَا رَأتِ الْمُسْتَحَاضَةُ الطهر طر ے خون کی اند و نامرد ہے یعنی یہ کہ ہ حیض اور خونِ استحاضہ کے درمیان تمیز کر لے۔زمانہ حیض کے اعتبار سے زمانہ استحاضہ طہر قرار دیا گیا ہے۔باب مذکور میں دو اختلافی مسئلوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ایک یہ کہ مستحاضہ کو نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے تو کیا یہ اجازت اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حالت طہر میں ہوتی ہے۔یا اس اجازت میں محض رخصت ملحوظ رکھی گئی ہے۔اکثر علماء نے اس کو طہر قرار دیا ہے اور اس لیے اس کے ساتھ جماع کرنا جائز سمجھا ہے۔یہ فریق حضرت ابن عباس کے فتویٰ سے حجت پکڑتے ہیں۔ایک دوسرا فریق ہے جو حالت استحاضہ کو ناپا کی قرار دے کر نماز پڑھنے کو بطورِ رخصت کے سمجھتا ہے۔اس کے نزدیک مستحاضہ سے جماع کرنا جائز نہیں۔یہ فریق حضرت عائشہ کے فتویٰ سے حجت پکڑتے ہیں۔حضرت ابن عباس کے مذکورہ بالا حوالوں کی تفصیل فتح الباری جلد اول صفحہ ۵۵۵-۵۵۶ میں دیکھیں۔امام بخاری نے عنوانِ باب میں اس اختلاف کی طرف اشارہ کر کے روایت ۳۳۱ کی بناء پر اس کا فیصلہ نہایت خوبی سے کیا ہے۔یعنی یہ کہ ارشاد نبوی حالت حیض کے متعلق واضح اور معین ہے۔یعنی یہ کہ وہ طہر نہیں اور اس میں نماز چھوڑ دی جائے اور جب بند ہو تو نہا کر نماز پڑھے۔استحاضہ کے متعلق یہ بحث کہ آیا وہ طہر ہے یا عدم طہر اور کیا اس میں جماع جائز ہے یا نا جائز۔احادیث اگر چہ اس میں خاموش ہیں۔(بداية المجتهد۔كتاب الغسل۔في معرفة احكام الحيض والاستحاضة۔المسئلة الخامسة في اختلاف الـعـلـمـاء في جواز وطئ المستحاضة۔جزء اول صفحه (۴۶) مگر ہمارے پاس ایک معین اصل ہے جس کے ماتحت ہم فیصلہ کر سکتے ہیں اور وہ یہ کہ حیض کو حالت طہر کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ارشاد نبوی میں صرف حیض کے متعلق استثناء کی گئی ہے۔ایک جواب یہ ہے اور دوسرا جواب اگلے باب میں دیا گیا ہے۔یہ۔