صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 419 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 419

صحيح البخاری جلد 1 ۱۹ ٦ - كتاب الحيض حِيْضَتِي فَقَالَ أَنْفِسْتِ فَقُلْتُ نَعَمْ میں کھسک گئی اور اپنے حیض کے کپڑے لئے تو آپ فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ۔ نے فرمایا: کیا تجھے خون آگیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے مجھے بلایا اور میں آپ کے ساتھ اُسی چادر میں لیٹ گئی۔ اطرافه ۲۹۸، ۳۲۲، ۱۹۲۹ تشريح : مَنِ اتَّخَذَ ثِيَابَ الْحَيْضِ سِوَى ثِيَابَ الطَّهر : باب کی شرح میں حیض کے مخصوص کپڑوں کا ذکر گذر چکا ہے۔ اس باب سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ عرب عورتیں حیض کے لئے الگ کپڑے رکھتی تھیں، اس لیے ان کے ساتھ سونے والا حیض کی نجاست سے محفوظ رہتا تھا۔ تو رات کے محولہ بالا حکم کا مفہوم یہ ہے کہ سونے والے کو اگر اس کی نجاست لگ جائے تو وہ سات دن تک نا پاک رہے گا۔ اسلام نے اس بیجا شتی سے انسان کو آزاد کر دیا ہے۔ نجاست جس وقت دور ہو جائے ، انسان کا بدن پاک ہو جاتا ہے۔ بَاب ۲۳ : شُهُودُ الْحَائِضِ الْعِيْدَيْنِ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ وَيَعْتَزِلْنَ الْمُصَلَّى۔ حائضہ کا دونوں عیدوں میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہونا اور وہ نماز گاہ سے الگ رہیں ٣٢٤: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ۳۲۴ : ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ عبدالوہاب نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ایوب سے۔ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ كُنَّا نَمْنَعُ عَوَاتِقَنَا ایوب نے حفصہ سے روایت کی وہ کہتی تھی کہ ہم اپنی أَنْ يَخْرُجْنَ فِي الْعِيدَيْنِ فَقَدِمَتِ کنواریوں کو عیدوں میں نکلنے سے منع کیا کرتی تھیں۔ امْرَأَةٌ فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِي خَلَفٍ ایک عورت آئی اور بنو خلف کے محل میں اتری اور اس فَحَدَّثَتْ عَنْ أُخْتِهَا وَكَانَ زَوْجُ نے اپنی بہن سے یہ روایت بیان کی اور اس کی بہن کا أُخْتِهَا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ خاوند نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ جنگوں میں گیا وَسَلَّمَ ثِنْتَيْ عَشَرَةَ وَكَانَتْ تھا۔ وہ کہتی تھی : ) اور میری بہن چھ لڑائیوں میں اس أُخْتِي مَعَهُ فِي سِيِّ قَالَتْ كُنَّا کے ساتھ تھی۔ وہ کہتی تھی کہ ہم زخمیوں کا علاج کیا نُدَاوِي الْكَلْمَى وَنَقُوْمُ عَلَی کرتیں اور بیماروں کی خبر گیری کرتیں۔ میری بہن