صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 420
صحيح البخاری جلد ) ۴۲۰ - كتاب الحيض الْمَرْضَى فَسَأَلَتْ أُخْتِي النَّبِيَّ صَلَّى نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا ہمیں گناہ ہوگا اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعَلَى إِحْدَانَا بَأْسٌ کہ اگر ہم میں سے کسی کے پاس جلباب نہ ہو اور وہ نہ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَّهَا جِلْبَابٌ أَنْ لَّا تَخْرُجَ نکلے؟ فرمایا: اس کی ساتھن اس کو اپنے جلباب کا ایک قَالَ لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا حصہ اُوڑھادے اور چاہیے کہ وہ بھلے کاموں اور وَلْتَشْهَدِ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِيْنَ مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہو۔جب حضرت ام عطیہ فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ سَأَلْتُهَا آئیں تو میں نے اُن سے پوچھا کیا آپ نے نبی صلی أَسَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ علیہ وسلم سے سن تھا ؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔میرا قَالَتْ بِأَبِي نَعَمْ وَكَانَتْ لَا تَذْكُرُهُ إِلَّا بِاپ آپ پر قربان۔اور جب بھی وہ آپ کا ذکر کرتیں تو کہتیں : میرا باپ آپ پر قربان ہو۔میں نے آپ قَالَتْ بِأَبِي سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ يَخْرُجُ کو کہتے ہوئے سنا تھا کہ کنواریاں اور پردہ والیاں۔یا الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُوْرِ أَوِ فرمایا اور کنواری پردہ والیاں اور وہ عورتیں جنہیں حیض الْعَوَاتِقُ ذَوَاتُ الْخُدُوْرِ وَالْحُيَّضُ تكلم آیا ہو باہر تھیں اور بھلے کاموں اور ایمان والوں کی دعا وَلْيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِيْنَ مِیں شریک ہوں اور حائضہ عورتیں نماز گاہ سے الگ وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى قَالَتْ رہیں۔حفصہ کہتی تھیں : میں نے کہا، کیا حیض والی حَفْصَةُ فَقُلْتُ الْحُيَّضُ فَقَالَتْ أَلَيْسَ عورتیں بھی؟ تو انہوں نے کہا: کیا وہ (حج میں) تَشْهَدُ عَرَفَةَ وَكَذَا وَكَذَا۔عرفات اور فلاں فلاں مقام میں نہیں جایا کرتیں۔اطرافة ،۳۵۱، ۹۷۱ ، ،۹۷٤ ، ۹۸۰، ۹۸۱، ١٦٥۲- تشریح : شُهُودُ الْحَائِضِ الْعِيدَيْنِ : تورات کی روسے حائضہ نہ معبد میں دال ہوسکتی ہے اور نہ کی عبادت وغیرہ میں شریک ہو سکتی ہے۔(احبار باب ۱۵، آیت ۲۹) مگر شریعت اسلامیہ نے حائضہ کو بعض عبادتوں میں شامل ہونے کی اجازت دی ہے۔جیسا کہ اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔اس کے مسجد میں داخل ہونے کے متعلق بھی ویسا ہی اختلاف ہے جیسا جنبی کے متعلق۔(بداية المجتهد كتاب الغسل۔الباب الثالث في احكام هذين الحدثين أعنى الجنابة والحيض۔المسئلة الاولى اختلف العلماء فى دخول المسجد) امام نووی نے حائضہ کے لیے ضروری نہیں قرار دیا کہ وہ نماز گاہ سے الگ رہے۔(فتح الباری جلد اول صفحہ ۵۴۹) اور يَعْتَزِلُنَ الْمُصَلَّی کی یہ تشریح کی ہے کہ نماز گاہ میں موجود ہوتے ہوئے حائضہ کا عبادت میں نہ شریک ہونا۔ممکن ہے کہ اس سے اس کے نفس