صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 411
صحيح البخاری جلد ) ۱۱ ٢ - كتاب الحيض بَاب ۱۷ : { قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ } مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ اللہ عز وجل کا فرمانا: جسے خاص تخلیقی عمل یا عام تخلیقی عمل سے بنایا گیا (الحج: ٦) ۳۱۸ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۳۱۸: ہم سے مسد دنے بیان کیا، کہا: حماد نے ہمیں حَمَّادٌ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ بتلایا ۔ انہوں نے عبید اللہ بن ابی بکر سے، عبید اللہ نے أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ حضرت انس بن مالک سے ، حضرت انس نے نبی صلی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اللہ عز و جل نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے جو کہتا ہے: اے رب وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا يَقُوْلُ يَا رَبِّ نُطْفَةٌ يَا رَبِّ عَلَقَةٌ يَا رَبِّ مُضْغَةٌ (اب یہ نطفہ ہے۔ اے رب علقہ ہے۔ اے رب مضغہ ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ ) ارادہ کر لیتا ہے کہ اس فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهُ قَالَ کی پیدائش کو مکمل کرے تو فرشتہ کہتا ہے: کیا ر ہو یا مادہ۔ أَذكَرُ أَمْ أُنْثَى شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ فَمَا بد بخت ہو یا نیک بخت ۔ اور اس کی روزی کیا ہوگی اور الرِّزْقُ وَمَا الْأَجَلُ فَيُكْتَبُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ مهلت کتنی۔ تو یہ سب کچھ اسی وقت لکھ دیا جاتا ہے کہ وہ ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں ہی ہوتا ہے۔ اطرافه: ٣٣٣٣، ٦٥٩٥ نے حضرت عائشہ کو جو حکم دیا تشریح : بعض نے باب ۱۵-۱۶کے متعلق یہ اعتراض کھایا ہے کہ صلی الہ علیہ وسلم نے حضرت اُٹھایا۔ تھا تو وہ احرام کھولنے کی وجہ سے دیا تھا نہ کہ نسل حیض کی وجہ سے ، کیونکہ اس وقت تک وہ حائضہ تھیں ۔ ان کے نزدیک امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت سے صحیح استدلال نہیں کیا۔ امام ابن حجر نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ حضرت عائشہ نے تمتع کی نیت کی ہوئی تھی یعنی عمرہ اور حج کی۔ سرف مقام پر ان کو حیض آگیا تھا ، اس لیے عمرہ نہ کر سکیں یہاں تک کہ حج کا وقت آگیا۔ دوسری روایت کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ یوم عرفہ تک وہ حائضہ تھیں، اس لئے انھوں اور نے شکایت کی کہ حج کا وقت آگیا ہے۔ آپ نے فرمایا : دَعِي عُمُرَ تَكِ یعنی عمرہ رہنے دو اور سر دو اور سر کھول دو اور کنگھی کرلو حج کا احرام باندھ لو۔ حج کا احرام باندھتے وقت نہانا بھی آداب احرام آداب احرام میں سے ایک مسنون ادب ہے۔ مسلم نے بھی یہی واقعہ نقل کیا ہے۔ اس میں یہ الفاظ ہیں: فَاغْتَسِلِي ثُمَّ اهْلِي بِالْحَجِّ ۔ (مسلم کتاب الحج باب بيان وجوه الأحرام: ۲۱۲۷) گویا امام بخاری نے عنوان باب میں اپنی عادت کے مطابق اس روایت کے الفاظ کی طرف اشارہ کر کے بتلایا ہے الفاظ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔ (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۵۴)