صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 407
صحيح البخاری جلد | ۴۰۷ ٦ - كتاب الحيض بَاب ١٤ : غَسْلُ الْمَحِيْضِ حیض کی جگہ دھونا ٣١٥: حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۳۱۵: ہم سے مسلم نے بیان کیا کہا: وہیب نے ہم وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ أُمِّهِ عَنْ سے بیان کیا کہا: منصور نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً مِّنَ الْأَنْصَارِ قَالَتْ اپنی ماں ہے ۔ اُن کی ماں نے حضرت عائشہ سے لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ روایت کی کہ انصار میں سے ایک عورت نے نبی صلی أَغْتَسِلُ مِنَ الْمَحِيْضِ قَالَ خُذِي اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں غسل حیض کس طرح کیا فِرْصَةً مُّمَسَّكَةً فَتَوَضَّنِيْ ثَلَاثًا ثُمَّ إِنَّ کروں؟ فرمایا: مشک لگا ہوا ایک پھا یہ لو اور تین دفعہ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحْيَا دھوؤ۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم شرمائے اور اپنا فَأَعْرَضَ بِوَجْهِهِ أَوْ قَالَ تَوَضَّنِي بِهَا منہ پھیر لیا۔ یا فرمایا: اس سے صاف ستھری ہو جاؤ۔ فَأَخَذْتُهَا فَجَذَبْتُهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ اس پر میں نے اس کو پکڑ کر کھینچ لیا۔ اور نبی صلی اللہ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اطرافه: ٣١٤، ٧٣٥٧ علیہ وسلم کی جو مراد تھی وہ اس کو بتلائی ۔ تشريح : غَسْلُ الْمَحِيضِ : باب ۳ میں قسل حیض کے بارے میں بی بی کا مرت ارشاد ع کا صریح ارشاد پیش کیا گیا ہے۔ جس میں بدن مل کر نہانے کے بعد ایک خاص قسم کی خوشبولگا کر خون کے نشان اچھی طرح صاف کرنے کے متعلق آپ کی ہدایت کا ذکر ہے۔ کست یا قسط عود ہندی کو کہتے ہیں ( النهاية۔ تحت لفظ قسط، كست۔ الجزء الرابع) اور اظفار ساحل یمن پر مشہور شہر ہے اور سیاہ رنگ کی ایک خوشبو کا بھی نام ہے جو ناخن کی مانند ہوتی ہے۔ جسم صاف کرنے کے لیے یہ خوشبو استعمال کی جاتی ہے ۔ (النهاية۔ تحت لفظ ظفر۔ الجزء الثالث) تَطَهَّرِي بِهَا : امام موصوف نے عنوان باب میں بدن مل کر نہانے کا جو مسئلہ بیان کیا ہے، وہ دراصل تَطَهَّرِی کے لفظ سے اخذ کیا ہے۔ باب تفعل جو اپنے اندر تکلف کا معنی رکھتا ہے۔ اس مفہوم کو ادا کرتا ہے ۔ تَطَهَّرِی کے معنے اچھی طرح نہا دھو کر پاک صاف ہو جاؤ۔ علاوہ ازیں منصور بن صفیہ کی ابن عیینہ سے یہی روایت مسلم نے بھی نقل کی ہے۔ نیز مسلم کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : فَقَالَ تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَا نَهَا وَ سِدْرَتَهَا فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ