صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 408
صحيح البخاری جلد ) ۴۰۸ ٢ - كتاب الحيض دَلَكًا شَدِيدًا حَتَّى تَبْلُغَ شُؤُوْنَ رَأْسِهَا ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً۔۔۔۔۔باب مذکور کا عنوان اسی روایت سے لیا ہوا معلوم ہوتا ہے۔چونکہ اس کی سند بوجہ اس کے کہ اس میں ایک راوی ابراہیم بن مہاجر ہیں، ان کی کڑی شرطوں کے مطابق نہیں۔اس لیے روایت مشار الیہا کا مضمون عنوان باب میں لے لیا ہے اور اس کی تائید میں اپنی شروط کے مطابق وہ روایت پیش کی ہے جونہایت صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔(فتح الباری جلد اول صفحہ ۵۳۸ ) غرض باب ۱۳ کی روایت میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد خون حیض کے نشان دھو کر اس جگہ خوشبولگانے کے متعلق واضح ہے۔باب ۱۴ میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ارشاد ایک اور روایت سے ثابت کیا گیا ہے جس کے راوی مسلم بن ابراہیم ہیں۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی غرض ان بابوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح ارشادات کو حضرت عائشہ کی اس روایت کے بالمقابل پیش کرتا ہے جو باب هَلْ تُصَلّى الْمَرْأَةُ فِى ثَوْبِ حَاضَتْ فِيهِ میں منقول ہے اور جس سے ایک اعتراض کی صورت پیدا ہوتی تھی۔روایت نمبر ۳۱۴ و ۳۱۵ سے ضمنا یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی نے عورتوں کے سامنے ایسے مسائل بیان کرنے سے شرماتے تھے۔عورتوں کے متعلق احکام زیادہ تر آپ کی بیویوں کے ذریعہ ہم کو پہنچے ہیں۔عند الضرورت اگر آنحضرت سے کو کوئی ایسا مسئلہ بیان کرنا پڑتا تو آپ اشارہ و کنایہ سے کام لیتے۔اس ضمن میں روایت نمبر ۱۳۰ کی شرح بھی ملاحظہ ہو۔بَاب ١٥ : اِمْتِشَاطُ الْمَرْأَةِ عِنْدَ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيْضِ عورت کا غسل حیض کے وقت کنگھی کرنا ٣١٦ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ :۳۱۶ ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيْمُ حَدَّثَنَا ابْنُ ابراہیم نے ہمیں بتلایا۔(انہوں نے کہا: ) ابن شہاب نے شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ ہم سے بیان کیا کہ عروہ سے مروی ہے کہ حضرت أَهْلَلْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عائشہ کہتی تھیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَكُنْتُ مِمَّنْ کے ساتھ حجة الوداع میں احرام باندھا اور میں ان تَمَتَّعَ وَلَمْ يَسُقِ الْهَدْيَ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا لوگوں میں سے تھی جنہوں نے حج کے علاوہ عمرہ کا بھی حَاضَتْ وَلَمْ تَطْهُرْ حَتَّى دَخَلَتْ لَيْلَةُ احرام باندھا تھا اور قربانی آگے نہیں بھیجی تھی تو انہیں معلوم عَرَفَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ لَيْلَةُ ہوا کہ انہیں حیض آیا ہے اور وہ نہائی نہیں یہاں تک کہ عَرَفَةَ وَإِنَّمَا كُنْتُ تَمَتَعْتُ بِعُمْرَةٍ عَرَفَة کی رات آگئی تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عَرَفَة کی رات ہے اور میں نے تو صرف عمرہ کا احرام