صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 406
صحیح البخاری جلد ) ٦ - كتاب الحيض الثوب میں بھی اسی قسم کی ترتیب ملحوظ رکھ کر مسئلہ زیر بحث حل کیا تھا۔(دیکھئے باب۷۰) على الله باب ۱۲ میں جو روایت حضرت ام عطیہ کی پیش کی گئی ہے اس کا یہ خلاصہ ہے کہ ہمیں فلاں فلاں بات سے منع کیا جا تا تھا اور فلاں بات کی اجازت دی گئی تھی۔یعنی غسل حیض کے وقت خوشبو لگانے کی۔اس روایت کے آخر میں صرف عَنِ النَّبِيِّ ہ کہ کر اس کا مضمون چھوڑ دیا ہے تا کہ اس امر کی طرف قارئین کو توجہ دلائیں کہ یہ مرفوع ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے ان کو فلاں بات سے منع کیا تھا اور فلاں بات کی اجازت دی تھی اور یہ کہ عورتیں طہر کے وقت آپ کی اجازت سے خوشبو استعمال کیا کرتی تھیں۔مگر سابقہ روایت میں آنحضرت ﷺ کی اجازت یا عدم اجازت کا کوئی ذکر نہیں۔بَاب ۱۳ : دَلْكُ الْمَرْأَةِ نَفْسَهَا إِذَا تَطَهَّرَتْ مِنَ الْمَحِيْضِ عورت کا جب وہ حیض سے پاک ہو، اپنا بدن ملنا وَكَيْفَ تَغْتَسِلُ وَتَأْخُذُ فِرْصَةً اور یہ کہ وہ کیسے نہائے اور مشک لگی ہوئی اون یا روٹی کا مُّمَسَّكَةً فَتَتَبَّعُ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ۔بھا یہ ؛ جہاں جہاں خون کا نشان پائے وہاں اسے پہنچائے۔٣١٤ : حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا ۳۱۴ ہم سے سجی نے بیان کیا کہا: ابن عیینہ نے ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَّنْصُورٍ بْن صَفِيَّةَ عَنْ ہمیں بتلایا۔انہوں نے منصور بن صفیہ سے۔منصور أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةَ سَأَلَتِ نے اپنی ماں سے۔ان کی ماں نے حضرت عائشہ سے النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ روایت کی کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل حیض کے متعلق پوچھا تو آپ نے اسے بتلایا کہ وہ کس طرح غسل کرے فرمایا کہ مشک کا ایک غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيْضِ فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ قَالَ خُذِي فِرْصَةً مَنْ مَسْكٍ پھا یہ لو اور اس سے پاک وصاف ہو جاؤ۔اس نے فَتَطَهَّرِي بِهَا قَالَتْ كَيْفَ أَتَطَهَّرُ کہا کہ میں کیسے پاک وصاف ہو جاؤں؟ آپ نے قَالَ تَطَهَّرِي بِهَا قَالَتْ كَيْفَ قَالَ فرمایا: اُس سے پاک و صاف ہو جاؤ۔کہنے سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي فَاجْتَبَذْتُهَا فَاجْتَبَذْتُهَا إِلَيَّ لگی کیسے؟ فرمایا: سُبْحَانَ الله۔پاک صاف ہو جاؤ۔اس پر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں نے کہا: جہاں جہاں خون کا نشان پائے ، وہاں اسے پہنچائے۔فَقُلْتُ تَتَبَّعِيْ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ۔اطرافه ٣١٥ ٧٣٥٧۔