صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 396
صحيح البخاری جلد ) ۳۹۶ ٦ - كتاب الحيض وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ كُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ يَخْرُجَ اور حضرت ام عطیہ کہتی تھیں کہ ہمیں حکم دیا جاتا تھا الْحُيَّضُ فَيُكَبِّرْنَ بِتَكْبِيرِهِمْ که حائضہ عورتیں بھی باہر نکلیں اور لوگوں کی تکبیر کے وَيَدْعُوْنَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَخْبَرَنِي ساتھ تکبیر کہیں اور دعا مانگیں اور حضرت ابن عباس أَبُو سُفْيَانَ أَنَّ هِرَقْلَ دَعَا بِكِتَابِ نے کہا کہ مجھے ابوسفیان نے بتلایا کہ ہر قل نے نبی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ فَإِذَا صلى اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور اُسے پڑھا تو اس میں فِيْهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَ يَا یہ تھا: رحمن رحیم اللہ کے نام سے، اے اہل کتاب! أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ اُس بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللهَ وَلَا مشترک ہے وہ یہ کہ ہے وہ یہ کہ ہم اللہ ہی کی عبادت کریں اور کسی نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا إِلَى قَوْلِهِ مُسْلِمُوْنَ ۔ چیز کو بھی اس کا شریک نہ ٹھہرائیں ۔۔۔ یہ کہ ہم (آل عمران : ٦٥) فرمانبردار ہیں۔ اور عطاء نے حضرت جابر سے نقل وَقَالَ عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ حَاضَتْ کیا کہ حضرت عائشہ کو حیض آیا اور انہوں نے حج کی عَائِشَةُ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ غَيْرَ تمام عبادتیں ادا کیں سوائے بیت اللہ کے طواف کے الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَلَا تُصَلِّي وَقَالَ اور نماز نہیں پڑھتی تھیں۔ اور حکم نے کہا: میں تو ذبح الْحَكَمُ إِنِّي لَأَذْبَحُ وَأَنَا جُنُبْ وَقَالَ بھی کرتا ہوں حالانکہ جنبی ہوتا ہوں اور اللہ (عز وجل) اللهُ : وَ لَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ نے فرمایا : مت کھاؤ؛ ان چیزوں سے جن پر اللہ کا نام اللهِ عَلَيْهِ ۔ (الأنعام: ۱۲۲) نہیں لیا گیا۔ ٣٠٥ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۳۰۵: ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا: عبدالعزیز بن عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ ابی سلمہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ قاسم سے عبدالرحمن نے قاسم بن محمد سے ، قاسم مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ نے حضرت عائشہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَذْكُرُ ہم نبی ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہم حج کا ہی ذکر کرتے إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا جِئْنَا سَرِفَ طَمِثْتُ تھے ۔ جب ہم سرف مقام میں آئے تو مجھے حیض