صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 395
صحیح البخاری جلد 1 ۳۹۵ ٦ - كتاب الحيض نے عورتوں کے متعلق جو رائے ظاہر فرمائی ہے اسکی واقعات اور مشاہدات پورے طور پر تائید کرتے ہیں۔ایک مرد جس کی معنویات شادی سے پہلے والدین اور بھائیوں وغیرہ کے متعلق افق اعلیٰ تک پرواز کر رہی ہوتی ہیں، بیوی کے آنے پر تحت الترکی میں غائب ہو جاتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی قسم کے تغیر کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں۔الْعَشِیر کے معنی خاوند اور قریبی رشتہ دار دونوں ہیں۔(لسان العرب تحت لفظ ”عشـر الـمـجـلـد الرابع۔صفحه ۲۹۵۵) نَاقِصَاتِ عَقْلِ : عورتوں کا تجربہ بہ نسبت مردوں کے نہایت محدود ہوتا ہے۔اس لیے ان کی ذہنی نشو ونما بھی محدود اور ناقص ہوتی ہے۔گھر کے گوناگوں جھمیلوں میں توجہ منقسم ہونے کی وجہ سے عموماً واقعہ یا بات کی تفصیلات نظر ، کان اور حافظہ سے غائب ہو جاتی ہیں اور بوجہ کی تربیت اور قلت تجربہ کے وہ خارجی واقعات کو اپنے ذہنوں میں کما حقہ اخذ بھی نہیں کر سکتی۔اس لئے شریعت نے شہادت کے متعلق جہاں اور احتیاطیں اختیار کی ہیں ، وہاں یہ احتیاط بھی اختیار کی ہے کہ اگر ایک مرد کی شہادت نہ ملے تو دو عورتوں کی شہادت کی جائے۔نَاقِصَاتِ دِين : دین کے نقص کا جو حوالہ دیا گیا ہے۔وہ اگر چطبعی نقص ہے اور مواخذہ کے نیچے نہیں مگر بہر حال وہ ایک نقص ہے جس کی وجہ سے عورت عبادت الہی سے کچھ دن کے لئے محروم ہو جاتی ہے۔ثواب وعقاب سے قطع نظر یہ محرومی فی ذاتہ ایک ایسا نقص ہے جس کو عبادت کی لذت سے آشنا انسان تکلیف کے ساتھ محسوس کرتا ہے۔علاوہ ازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں جہاں عورت کے نقصان عقل و دین کا ذکر ہے وہاں صرف ایک نسبتی نقص کا اظہار کیا گیا ہے اور اس میں ضمنا مردوں کے نقص کا بھی ذکر فرمایا ہے: مَارَأَيْتُ مِن نَّاقِصَاتِ عَقْلٍ وَّدِينِ اذْهَبَ لِلبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ احدخن۔ناقصات عقل و دین سے مراد صرف عورتوں کا گروہ نہیں بلکہ مطلق ناقص اشخاص ہیں، جن میں مرد و عورت دونوں شامل ہیں۔جمع مکسر خواہ مذکر ہی ہو، ات“ سے بکثرت آتی ہے۔یہاں قلت و کثرت کا نسبتی سوال ہے۔ورنہ بعض عورتیں بعض مردوں سے بدرجہا بہتر ہوتی ہیں۔حضرت مریم صدیقہ کے متعلق خود قرآن مجید فرماتا ہے: لَيْسَ الذَّكَرُ كَالانثى ال عمران: ۳۷)۔باقی حصہ مضمون حدیث نمبر ۲۹ کی شرح میں دیکھا جائے۔بَابِ : تَقْضِي الْحَائِضُ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ حائضہ حج کی تمام عبادتیں ادا کر سکتی ہے سوائے بیت اللہ کے طواف کے وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ لَا بَأْسَ أَنْ تَقْرَأَ الْآيَةَ اور ابراہیم نے کہا: کوئی حرج نہیں کہ وہ کوئی آیت وَلَمْ يَرَ ابْنُ عَبَّاسِ بِالْقِرَاءَةِ لِلْجُنُبِ پڑھے اور حضرت ابن عباس نے جنبی کے لئے قرآن بَأْسًا وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مجید پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ فِي كُلِّ أَحْيَانِهِ اپنی تمام حالتوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے