صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 394
صحيح البخاری-جلد ا ۳۹۴ ٦ - كتاب الحيض أُرِيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ فَقُلْنَ وَہم یا میں دکھلائی گئی ہو تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! کس رَسُوْلَ اللهِ قَالَ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وجہ سے؟ فرمایا: تم لعنت زیادہ کرتی ہو۔اور اپنے وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيْرَ مَا رَأَيْتُ مِنْ خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔میں نے ناقص عقل نَّاقِصَاتِ عَقْلِ وَدِيْنٍ أَذْهَبَ لِلبِ اور ناقص دین اشخاص میں سے تم سے زیادہ کسی کو بھی الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ قُلْنَ دُوراندیش انسان کی عقل ضائع کرنے والا نہیں وَمَا نُقْصَانُ دِيْنِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُوْلَ دیکھا۔کہنے لگیں: یا رسول اللہ ! ہمارے دین اور عقل اللَّهِ قَالَ أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلُ میں کیا نقص ہے؟ فرمایا: کیا عورت کی شہادت مرد کی نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ قُلْنَ بَلَى قَالَ شہادت کے نصف کے برابر نہیں۔انہوں نے کہا: ہاں۔آپ نے فرمایا: تو یہ اسکی عقل کی کمی ہے۔کیا یہ فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا أَلَيْسَ إِذَا نہیں ہے کہ جب اُسے حیض آئے تو وہ نماز نہیں پڑھتی حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ قُلْنَ اور روزہ نہیں رکھتی۔انہوں نے کہا: ہاں۔فرمایا: یہی بَلَى قَالَ فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ دِيْنِهَا۔اطرافه: ١٤٦٢، ١٩٥١، ٢٦٥٨۔اس کے دین کی کمی ہے۔تشریح : تَرُكُ الْحَائِضِ الصَّومَ : پہلے باب میں حضرت عائشہ کے واقعہ کا ذکر ہو چکا ہے۔انہیں حج کو جاتے ہوئے سرف مقام میں حیض آگیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا۔فَاقْضِ مَا يَقْضِي الْحَاجُ غَيْرَانُ لَّا تَطُوفِی بِالْبَيْتِ۔۔۔الخ یعنی طواف بیت کے سوا حج کے باقی کام کرو۔اس سے یہ مراد نہیں تھی کہ نماز بھی پڑھو اور روزہ بھی رکھو، کیونکہ یہ مستقل عبادتیں ہیں، ارکان حج میں سے نہیں۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس باب میں روزے کا ذکر خصوصیت سے اس لئے کیا ہے کہ نماز کے متعلق تو شریعت کا حکم واضح ہے۔حَتَّى يَطْهُرْنَ اور فَإِذَا تَطَهَّرُن سے ظاہر ہے کہ ایام حیض میں طہارت مفقود ہوتی ہے جو نماز کے لئے نہایت ضروری شرط ہے، مگر روزے کے لئے جسمانی پاکیزگی شرط نہیں۔اس لئے طبعا یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ حائضہ روزہ رکھ سکتی ہے کہ نہیں ؟ چونکہ نماز کا مسئلہ بالبداہت واضح تھا؛ اس لیے اسے نظر انداز کر دیا ہے۔مگر روزے کا مسئلہ محتاج وضاحت تھا اس لئے اس کے لئے علیحدہ عنوان قائم کیا ہے؛ حالانکہ حدیث میں دونوں باتوں کا ذکر ہے۔امام بخاری نے اپنی اس کتاب میں یہ مخصوص طریقہ استدلال بھی اختیار کیا ہے۔(فتح الباری جلد اول صفحہ ۵۲۶) مذکورہ بالا حدیث کا مضمون حدیث نمبر ۲۸ میں اختصار کے ساتھ گذر چکا ہے۔عنوان باب کے ساتھ اس حدیث کا جو تعلق ہے وہ واضح کر دیا گیا ہے۔مگر چونکہ اس کا آگے کہیں ذکر نہیں ہوگا۔اس لئے یہاں مخالفین اسلام کے ایک اعتراض کا مختصر جواب دینا ضروری معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم