صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 356
صحيح البخاری جلد ا ۳۵۶ ۵- كتاب الغسل بَاب ١٤ : مَنْ تَطَيَّبَ ثُمَّ اغْتَسَلَ وَبَقِيَ أَثَرُ الطَّيْبِ جو خوشبو لگائے اور پھر نہائے اور خوشبو کا اثر باقی رہے ۲۷۰ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ قَالَ ۲۷۰ : ہم سے ابو نعمان نے بیان کیا، کہا: ابوعوانہ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ نے ہمیں بتلایا ، انہوں نے ابراہیم بن محمد بن منتشر ابْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ ہے، ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ میں وَذَكَرْتُ لَهَا قَوْلَ ابْنِ عُمَرَ مَا أُحِبُّ أَنْ نے حضرت عائشہ سے پوچھا اور ان سے حضرت ابن أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَحُ طِيبًا فَقَالَتْ عمر کا یہ قول ذکر کیا ” مجھے پسند نہیں کہ میں احرام کی حالت میں صبح اٹھوں اور خوشبو سے مہک رہا ہوں ۔“ عَائِشَةُ أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ صلى الله عليه اس پر حضرت عائشہ نے کہا: میں نے رسول اللہ علی کو خوشبو لگائی ۔ پھر آپ نے اپنی بیویوں کے پاس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ طَافَ فِي نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا۔ چکر لگایا اور پھر صبح احرام باندھا۔ طرفه: ٢٦٧۔ ۲۷۱ : حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۲۷۱: ہم سے آدم ( بن ابی ایاس ) نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ شعبہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: حکم نے ہمیں بتلایا۔ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ انہوں نے ابراہیم سے۔ ابراہیم نے اسود سے۔ اسود إِلَى وَبِيْصِ الطَّيْبِ فِي مَفْرِقِ النَّبِيِّ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ۔ وہ کہتی تھیں: جیسے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ۔ کہ میں اب بھی خوشبو کی چمک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں دیکھ رہی ہوں۔ حالانکہ آپ احرام کی اطرافه ١٥٣٨، ٥٩١٨، ٥٩٢٣۔ حالت میں تھے۔ تشریح : إِذَا جَامَعَ ثُمَّ عَادَ: امام بخاری رحمہ الل علی نے بارہویں باب میں وعنوان قائم کئے ہیں۔ ایک دوبارہ جماع کرنا ، اور دوسرا اپنی بیویوں سے جماع کرنے کے بعد ایک ہی دفعہ نہانے پر اکتفاء کرنا۔ إِذَا اور مَنْ سے دو جملے شروع کئے ہیں۔ اور اس لفظی تغیر سے پہلا جملہ ان روایتوں کا اصل موضوع ہے جو اس باب