صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 283
صحيح البخاری جلد ا ۲۸۳ -۴- كتاب الوضوء صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا الله علﷺ میری عیادت کو آئے اور میں ایسا بیمار تھا کہ مَرِيْضٌ لَّا أَعْقِلُ فَتَوَضَّأَ وَصَبَّ عَلَيَّ ہوش نہیں رکھتا تھا۔آپ نے وضو کیا اور اپنے وضو کے مِنْ وَّضُوْئِهِ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ پانی سے کچھ پانی مجھ پر ڈالا۔میں ہوش میں آیا اور اللَّهِ لِمَنِ الْمِيْرَاثُ إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلَالَةٌ میں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ یہ میراث کس کے لئے ہوگی۔میرے وارث تو کلالہ ہیں۔تب فرائض کی فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ۔آیت نازل ہوئی۔اطرافه ٤٥٧٧، ٥٦٥١، ٥٦٦٤، ٥٦٧٦ ٦٧٢٣، ٦٧٤، ۷۳۰۹ تشریح : صَبُّ النَّبِي وَصُوْنَهُ عَلَى مُعْمَى عَلَيْهِ: حالت سے ہوئی میں پانی ڈالنے کے متعلق جو عنوان قائم کیا ہے۔اس سے کسی مسئلہ کا جواز یا عدم جواز ثابت کرنا مقصود نہیں بلکہ پانی کی ایک عام تاثیر کی طرف توجہ دلا کر وضو کا فلسفہ بیان کرنا مقصود ہے۔جواز و عدم جواز کے متعلق وہ گذشتہ بابوں میں ذکر کر آئے ہیں۔جہاں آپ کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو بطور تبرک استعمال کرنے کا واقعہ بیان کیا ہے۔(روایت نمبر ۱۸۷) یہاں پر یہ الفاظ قابل غور ہیں : وَأَنَا مَرِيضٌ لَا أَعْقِلُ۔۔۔فَعَقَلتُ۔پانی کے پڑنے سے ہوش و حواس ٹھکانے پر آگئے۔وضو کے متعلق تفصیلی تشریح روایت نمبر ۱۵۹،۱۵۷۔اور روایت نمبر ۱۹۴ کے ضمن میں روایت نمبر ۱۹۰ ملاحظہ ہو۔گلالہ : اس کو کہتے ہیں کہ جس کے باپ دادا فوت ہو چکے ہوں اور اس کی اولا د بھی نہ ہو۔فَنَزَلَتُ : اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اسی وقت نازل ہوئی۔باب ٤٥ اَلْغُسْلُ وَالْوُضُوْءُ فِي الْمِخْضَبِ وَالْقَدَحِ وَالْخَشَبِ وَالْحِجَارَةِ لگن اور پیالے اور لکڑی اور پتھر کے برتنوں میں غسل اور وضو کرنا ١٩٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيْرٍ :۱۹۵ ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا۔انہوں سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا نے عبد الله بن بکر سے سنا۔وہ کہتے تھے: حمید نے حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ فَقَامَ مَنْ كَانَ قَرِيْبَ الدَّارِ إِلَى أَهْلِهِ انہوں نے کہا: نماز کا وقت ہوا تو جن لوگوں کا گھر وَبَقِيَ قَوْمٌ فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله نزدیک تھا وہ اُٹھ کر اپنے اپنے گھروں کی طرف چلے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبِ مِنْ حِجَارَةٍ فِيْهِ گئے اور کچھ لوگ باقی رہ گئے۔رسول اللہ مے کے مَاءً فَصَعُرَ الْمِخْضَبُ أَنْ يَبْسُطُ فِيهِ پاس پھر کا ایک لگن لایا گیا جس میں کچھ پانی تھا۔وہ