صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 282 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 282

صحيح البخاری جلد ا ۲۸۲ ۴- كتاب الوضوء اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ كَانَ الرِّجَالُ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُوْنَ فِي زَمَانِ رَسُوْلِ مرد اور عورتیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اکٹھے اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا ۔ ہیں۔ صحابہ وضو کیا کرتے تھے۔ تشريح : وُضُوءُ الرَّجُلِ مَعَ امْرَأَتِ : باب دور میں ایک بوده است تا ازالہ کیاگیا ہےاوروہ یہ کہ عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ مرد کے ساتھ وضو کرے یا وہ ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے وضو وغیرہ کریں۔ اس اعتقاد میں مشرکانہ خیالات کی ملونی ہے۔ جیسا کہ ہندو اب تک اس قسم کے اختلاط سے پر ہیز کرتے صحابہؓ کو ان امور کی کچھ پرواہ نہ تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مرد و زن اکٹھے وضو کیا کرتے تھے۔ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کرتے ہوں یا وضو کرنے والے مرد اور عورتیں محرم ہوں ۔ ان میں سے کوئی بھی صورت ہو۔ بہر حال یہ ثابت ہے کہ صحابہ کے درمیان یہ پر ہیز نہ تھا۔ اس روایت (نمبر۱۹۳): ، درمیان یہ پر ہیز نہ تھا۔ اس روایت (نمبر (۱۹۳) میں مسلمان تو مسلمان حضرت عمرؓ نے عیسائی عورت سے پانی لے کر بھی وضو کیا ہے۔ چھوت کا مسئلہ اسلام میں نہیں۔ مسلمان ہندوستان کی مشرکانہ اقوام میں رہ کر اس امر میں انہی کی نقالی کرنے لگے ہیں۔ کسی کا ہاتھ لگ جانے یا عورت کا پانی استعمال کرنے سے اس پانی کے اندر کوئی خاص تغیر واقع نہیں ہو جاتا ۔ جس سے دوسرے مرد یا عورت کے لئے اس کا استعمال کرنا نا جائز ہو جائے۔ امام بخاری نے وَتَوَضَّأَ عُمَرُ بِالْحَمِيمِ کہہ کر اس قول کا بھی رد کر دیا ہے جو مجاہد سے مروی ہے ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۹۰) یعنی یہ کہ گرم پانی سے وضو کرنا نا جائز ہے۔ گرمی سے اس کے اندر کوئی نئی حالت نہیں پیدا ہو جاتی جو اس کو پانی کے نام اور معنی سے خارج کر دیتی ہو اور نہ چھوت سے وہ ناپاک ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اظہار بایں الفاظ کیا: الْمَاءُ لَيْسَ عَلَيْهِ جَنَابَةٌ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۹۳) پانی جنبی کے چھونے سے جنبی نہیں ہو جاتا اور نہ مشرک کے چھونے سے وہ نجس ہوتا ہے۔ عنوان باب میں حضرت عمر کے عمل کے متعلق جو اشارہ کیا گیا ہے اس کا ذکر عبدالرزاق دار قطنی اور امام شافعی نے صحیح سند کے ساتھ ساتھ کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۹۰) جو لوگ ظاہری طہارت میں غلو سے کام لیتے ہیں وہ باطنی طہارت کی حقیقت سے غافل ہو جاتے ہیں۔ بَاب ٤ ٤ : صَبُّ النَّبِيِّ ﷺ وَضُوءَهُ عَلَى الْمُغْمَى عَلَيْهِ صلى الله نبی ﷺ کا اپنے وضو کا پانی بے ہوش پر ڈالنا علیہ ١٩٤ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۹۴ : ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ محمد بن منکدرسے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُوْلُ جَاءَ رَسُولُ اللهِ میں نے حضرت جابرؓ سے سنا۔ انہوں نے کہا: رسول