صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 281 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 281

صحيح البخاری جلد ا ۲۸۱ ۴- كتاب الوضوء غَرَفَاتٍ مِّنْ مَّاءٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي میں پانی لیا اور ناک صاف کی، تین دفعہ پانی کے تین الْإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ چلوؤں سے۔ پھر اپنا ہا تھ برتن میں ڈالا اور اپنے منہ کو يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى تین بار دھویا۔ پھر اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالا اور الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَدْخَلَ کہنیوں سمیت اپنے دونوں ہاتھوں کو دو دو بار دھویا۔ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اپنے سر کا مسح کیا۔ اپنے بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ بِهِمَا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي ہاتھوں کو آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لے الْإِنَاءِ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ وَحَدَّثَنَا مُوسَى آئے۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اپنے دونوں قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ مَسَحَ رَأْسَهُ پاؤں دھوئے اور موسیٰ نے ہمیں بتلایا۔ کہا کہ ہم سے مَرَّةً۔ وہیب نے بھی یہی حدیث بیان کی اور کہا: اپنے سرکا انہوں نے ایک بار سح کیا۔ اطرافه: ١٨٥، ١٨٦ ، ۱۹۱، ۱۹۷، ۱۹۹۔ تشریح : مَسْحُ الرَّأْسِ مَرَّةً: امام شافعی کے نزدیک سر پر تین بار کرنا نتحب ہے، وجہ اس کے کہ الوضوء --- ثَلَاثًا ثَلَاثًا۔ وضو میں تین تین بار دھونا ہوتا ہے۔ ( باب (۲۴) مگر اس باب میں اب (۲۴) مگر اس باب میں حضرت عثمان کا جو واقعہ مردی ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے سر پر ایک ہی دفعہ مسح کیا۔ امام بخاری نے مزید مستند روایتیں پیش کر کے جمہور کے مذہب کی تائید کی ہے۔ پہلی روایتوں میں پوچھنے والے کا نام مذکور نہیں۔ سلیمان بن حرب کی روایت میں اس کا ذکر ہے۔ باب ٤٣ : وُضُوْءُ الرَّجُلِ مَعَ امْرَأَتِهِ آدمی کا اپنی بیوی کے ساتھ وضو کرنا وَفَضْلُ وَضُوْءِ الْمَرْأَةِ وَتَوَضَّأَ عُمَرُ اور عورت کے وضو سے بچا ہوا پانی۔ اور حضرت عمر بِالْحَمِيمِ ، مِنْ بَيْتِ نَصْرَانِيَّةٍ۔ نے گرم پانی سے (اور ) ایک عیسائی عورت کے گھر سے لے کر وضو کیا۔ ۱۹۳ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۱۹۳ : ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے ، نافع نے