صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 273
صحيح البخاری جلد ا تشریح: ۲۷۳ - كتاب الوضوء لَمْ يَتَوَضَّأْ إِلَّا مِنَ الْغَشْيَ الْمُثْقِلِ : اس باب میں بھی ان لوگوں کا رد کرنا مقصود ہے، جو خفیف سی بے ہوشی کو بھی ناقض وضو قرار دیتے ہیں۔حضرت اسماء کو ایسی غشی نہیں ہوئی تھی جس میں کوئی ہوش نہیں رہتا اور انہوں نے وضو نہیں دھرایا، بلکہ سر پر پانی ڈال لیا ہے۔یہ واقعہ روایت نمبر ۸۶ میں بھی گذر چکا ہے۔وہاں سورج گرہن کا ذکر نہیں۔یہاں اس کا ذکر کر کے نماز پڑھنے کا سبب واضح کر دیا ہے۔باقی امور کے متعلق روایت نمبر ۸۶ کی تشریح دیکھئے۔نیز ملاحظہ ہو تشریح روایت نمبر ۲۱۶، ۲۱۸، ۴۲۸۔بَاب ۳۸ : مَسْحُ الرَّأْسِ كُلَّهُ سارے سر کا مسح کرنا لِقَوْلِهِ تَعَالَى: وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ کیونکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے: وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِكُمُ (المائدة: ٧) وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ الْمَرْأَةُ اور ابن مسیب نے کہا: عورت بھی آدمی کی طرح بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ تَمْسَحُ عَلَى رَأْسِهَا ہے۔اپنے سر پر مسح کرے اور امام مالک سے پوچھا وَسُئِلَ مَالِكٌ أَيُجْزِئُ أَنْ يَمْسَحَ بَعْضَ گیا : کیا سر کے ایک حصہ کا مسح کرنا کافی ہوگا ؟ تو الرَّأْسِ فَاحْتَجَّ بِحَدِيْثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید کی حدیث سے استدلال کیا۔١٨٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۱۸۵ ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا: عبداللہ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عمرو بن تحجي مازنی الْمَازِنِي عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ س، عمرو نے اپنے باپ سے روایت کی کہ ایک شخص ابْنِ زَيْدٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى نے حضرت عبد اللہ بن زید سے جو عمر و بن یحی کے دادا أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُوْلُ تھے کہا: کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ کس طرح وضو کیا کرتے تھے؟ اس پر حضرت اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ عبداللہ بن زید نے کہا: ہاں۔اور انہوں نے پانی عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ نَّعَمْ فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَفْرَغَ مَنوایا اور اپنے ہاتھ دو (۴) دفعہ دھوئے۔پھر کلی کی اور عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ مَضْمَضَ تین دفعہ ناک صاف کیا۔پھر تین دفعہ اپنا منہ دھویا۔وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ پھر اپنے ہاتھ کہنیوں تک دو دو بار دھوئے۔پھر دونوں