صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 267 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 267

صحيح البخاری جلد ا ۲۶۷ -۴- كتاب الوضوء سب نظر انداز کر دی ہیں، بوجہ صحیح روایات نہ ملنے کے جو ان کی شرط کے مطابق ہوں۔إِذَا جَامَعَ وَلَمْ يُمْنِ: انزال نہ ہونے کی حالت میں وضو دھرانے کو اس لئے کہا کہ مذی نکلنے کا احتمال ہے۔اَوْ لَا مَسْتُمُ النِّسَاءَ میں ملامست یعنی عورتوں کو چھونے سے مراد جماع ہے اور یہ جملہ اسی طرح کنایہ ہے جس طرح کہ اس سے پہلے کا یہ جملہ کنایہ ہے اَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِّنَ الْغَائِطِ۔جنگل سے آنے سے محض آنا مراد نہیں بلکہ قضائے حاجت ہے۔اسی طرح چھونے سے مراد صرف چھونا نہیں بلکہ قضائے شہوت مراد ہے؛ جومنی کے نکلنے کے ساتھ پوری ہوتی ہے اور اس کے لئے غسل ضروری ہے۔وضو کے لئے مخرجین سے منی کے سوا دوسری کسی غلاظت کا نکلنا ضروری شرط ہے۔چونکہ انزال ہونے سے پہلے مندی عمونا نکلتی ہے، اس لئے اس حالت کو حدث اصغر میں ہی شمار کیا ہے۔حدیث نمبر ۱۷۹ کا بھی یہی مفہوم ہے۔ندی کے متعلق حکم واضح کرنے کے لئے یہ تینوں حدیثیں یکے بعد دیگرے بیان کی گئی ہیں۔فقہاء نے اس بارے میں ایک اختلاف کیا ہے جس کی تفصیل کتاب الغسل باب ۲۸ حدیث نمبر ۲۹۱ کی تشریح میں ملاحظہ ہو۔مذی سفید رطوبت ہے جو ڈ کر سے نکلتی ہے۔لَعَلَّنَا أَعْجَلُنَاكَ : شاید ہم نے تجھے جلدی میں ڈالا ہے۔یعنی انزال سے پہلے بلا لیا ہے۔إذَا أُعْجِلْتَ اَوْ قُحِطْت : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے یہ مراد ہے کہ خواہ بیرونی سبب سے تجھے قبل از وقت چھوڑنا پڑے یا قلت منی وغیرہ کے سبب سے انزال نہ ہو تو اس صورت میں وضو ہی کرنا ہوگا۔وَلَمْ يَقُلْ عُندَرٌ وَيَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ الْوُضُوءُ: يعني غندر ( محمد بن جعفر ) اور یحی بن سعید قطان نے شعبہ سے جو روایت نقل کی ہے اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : عَلَيْكَ الوُضُوءُ - احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں ان کی یہ روایت نقل کی ہے۔سجی کے الفاظ یہ ہیں: فَلَيْسَ عَلَيْكَ غُسُلٌ ( مسند احمد بن حنبل جزء ۳۰ صفحه ۲۶) جبکہ غندر کے یہ الفاظ ہیں: فَلَا غُسُلَ عَلَيْكَ عَلَيْكَ الْوُضُوءُ۔(مسند احمد بن حنبل جزء۳ صفحه ۲۱) باب ٣٥ : الرَّجُلُ يُوَضَى صَاحِبَهُ جو آدمی اپنے ساتھی کو وضو کرائے ۱۸۱ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ :۱۸۱ مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا : یزید قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ يَحْيَى بن ہارون نے ہمیں بتلایا: انہوں نے سجی سے، سکی عَنْ مُّؤْسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مُّوْلَى نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے حضرت ابن عباس ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ کے مولی گریب سے، گریب نے حضرت اسامہ بن رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا زید سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب عرفات أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ عَدَلَ إِلَى الشَّعْبِ سے واپس ہوئے تو راستہ چھوڑ کر گھاٹی کی طرف گئے