صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 266
صحيح البخاری جلد ا ۲۶۶ ۴- كتاب الوضوء وَقَالَ الْحَسَنُ إِنْ أَخَذَ مِنْ شَعَرِهِ وَأَظْفَارِهِ أَوْ خَلَعَ خُفَّيْهِ فَلَا وُضُوءَ عَلَيْهِ : تیرا اختلافی مسئلہ بال کتروانے اور ناخن کٹوانے یا جرا ہیں اُتارنے پر وضو دھرانے کے متعلق ہے۔ امام بخاری نے حسن بصری کا فتوی نقل کیا ہے کہ وضو کا اعادہ کرنا ضروری نہیں۔ علماء حجاز و عراق کا بھی یہی فتوٹی ہے۔ جس میں امام ابو حنیفہ بھی شامل ہیں۔ امام بخاری کی بھی یہی رائے ہے۔ مگر مجاہد، حکم بن عیینہ اور حماد وضو دھرانا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کے نزدیک وہ چیزیں جو وضو کے وقت موجود تھیں، یعنی بال اور ناخن جسم پر باقی نہیں رہیں لیکن اجماع اس کے خلاف ہے۔ چوتھا اختلافی مسئلہ منہ سے یا جسم کے کسی حصہ میں زخم سے خون نکلنے پر وضو دھرانے کے متعلق ہے۔ امام بخاری نے اس مسئلے کے بارے میں جتنے حوالے دیئے ہیں ان سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ خون بہنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ خون آلودہ حصہ دھو لینا چاہیے۔ جیسا کہ پچھنے لگانے والے کے متعلق حضرت ابن عمرؓ اور حسن بصری کا فتوی نقل کر کے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان کا یہ فتوی امام شافعی اور ابن ابی شیبہ نے بھی موصول نقل کیا ہے ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۶۹) وَبَرَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى دَمًا فَمَضَى فِي صَلَاتِه : حضرت عبداللہ بن ابی اوفی صحابی تھے۔ ان کے والد حضرت ابو اونی کا نام علقمہ بن حارث ہے۔ یہ یہ بھ بھی صحابی تھے۔ امام ابو حنیفہ کی عمر سات برس تھی جب انہوں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی کو دیکھا ۔ سفیان ثوری نے اپنی کتاب جامع میں عطاء بن سائب سے روایتاً حضرت عبداللہ ابن ابی اوٹی کے متعلق واقعہ مذکورہ بیان کیا ہے۔ حضرت ابن عمرؓ کا واقعہ ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے۔ حسن بصری و طاؤس بن کیسان و محمد بن علی بن حسین جو امام باقر کے نام سے مشہور ہیں۔ نیز اہل حجاز یعنی امام مالک وغیرہ کے فتوی کا جو ذکر باب مذکور میں ہے یعنی لَيْسَ فِي الدَّمِ وُضُوء۔ اکثر اہل حدیث کا یہی مذہب ہے۔ مگر امام ابوحنیفہ اس فتوی کے خلاف ہیں۔ وہ سوائے اس خون کے جو حلق سے نکلے، باقی زخموں کے خون کو ناقض وضو قر ار دیتے ہیں بشرطیکہ وہ اتنی مقدار میں ہو کہ بہہ نکلے (عمدۃ القاری جزء ثالث صفحه ۵۲ ) مگر امام بخاری کے نزدیک زخموں کا خون ناقض وضو نہیں اور اس کے لئے انہوں نے غزوہ ذات الرقاع میں حضرت عباد بن بشر انصاری کے واقعہ کا حوالہ دیا ہے جس کی تفصیل کتاب المغازی میں آئے گی ۔ نَزَفَہ کے معنی خون اس قدر نکلا کہ اسے نڈھال کر دیا۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۶۸) ا اس باب میں مختلف آراء کی طرف اشارہ کر کے امام موصوف نے مسائل میں اس پہلو کو لیا ہے جو أَو جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِّنَ الْغَائِطِ کی صحیح تفسیر ہے اور جس میں عملی سہولت ہے اور اسی کے مطابق حدیث نمبر ۱۷۶ تا ۱۷۹ نقل کی ہیں۔ حدیث ۷۶ امیں حدث کی ادنیٰ حالت کا ذکر ہے اور حدیث نمبر ۱۷۷ حالت کا ذکر ہے اور حدیث نمبر ۷ ۱۷ کا مضمون پہلے ( روایت نمبر ۱۳۷ میں ) آچکا ہے۔ عباد بن تمیم کے چچا حضرت عبداللہ بن زید کو ہوا خارج ہونے کے متعلق شک پیدا ہوا کرتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ خاص ہدایت دی۔ شک کرنے والے کے لئے یہی دو بڑی محفوظ صورتیں ہیں ورنہ اس کا کوئی علاج نہیں۔ حدیث نمبر ۱۷۸ میں ندی کا نکلنا بھی ناقض وضو قرار دیا ہے۔ حدیث نمبر ۷۹ اسے واضح ہے کہ حدث کی حالت پیدا ہونے کے لئے کسی شئے کا دو مخصوص راستوں سے نکلنا ہے۔ بشرطیکہ اس کا سبب بیماری نہ ہو۔ حدث کی باقی جتنی حالتیں تھیں وہ