صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 268
صحيح البخاری جلد ا ۲۶۸ ۴- كتاب الوضوء فَقَضَى حَاجَتَهُ قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اور قضائے حاجت کی ۔ حضرت اسامہ نے کہا: میں فَجَعَلْتُ أَصْبُّ عَلَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ فَقُلْتُ آپ پر پانی ڈالنے لگا اور آپ وضو کرتے تھے۔ میں يَارَسُوْلَ اللهِ أَتُصَلِّي فَقَالَ الْمُصَلَّی نے پوچھا: یا رسول اللہ ! آپ نماز پڑھیں گے؟ فرمایا: أَمَامَكَ۔ اطرافه: ١٣٩، ١٦٦٧، ١٦٦٩، ١٦٧٢۔ نماز آگے (پڑھی جائے گی۔) ۱۸۲ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ قَالَ ۱۸۲ ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا : ہم سے حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ عبد الوہاب نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ يحي بن سعید سے سنا۔ وہ کہتے تھے: سعد بن ابراہیم إِبْرَاهِيمَ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ نے مجھے بتلایا کہ نافع بن جبیر بن مطعم نے ان سے أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ بیان کیا کہ انہوں نے عروہ بن مغیرہ بن شعبہ کو حضرت شُعْبَةَ يُحَدِّثُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ مغیرہ بن شعبہ سے روایت کرتے سنا کہ وہ رسول اللہ كَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ عله فِي سَفَرٍ وَ أَنَّهُ صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ ذَهَبَ لِحَاجَةٍ لَّهُ وَأَنَّ الْمُغِيْرَةَ جَعَلَ حاجت کے لئے گئے اور یہ کہ حضرت مغیرہ آپؐ پر يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَيْهِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ پانی ڈالنے لگے اور آپ وضو کرتے تھے۔ آپ نے وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ * } اپنا منہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے (اور اپنے سر پر وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ۔ مسح کیا ہے ) اور موزوں پر بھی صبح کیا۔ اطرافه: ۲۰۳، ۲۰۶ ، ۳۶۳، ۳۸۸، ۲۹۱۸، ٤٤۲۱، ٥٧٩٨، ٥٧٩٩ تشریح : الرَّجُلُ يُوَفِّى صَاحِبَهُ: فقہاء کے درمیان اس امر کے متعلق بھی اختلاف ہوا ہے۔ بعضوں نے کہا کہ کسی سے وضو کرانا مکروہ ہے۔ بعضوں نے انے کہا: مگر وہ تو نہیں مگر بہتر یہ ہے کہ خود کرے۔ امام بخاری نے اس اختلافی مسئلہ کے متعلق حدیث مذکور سے فیصلہ کر دیا ہے۔ یہ (حدیث (۱۸) حدیث نمبر ۱۳۹ میں بھی پہلے آچکی ہے۔ وہاں روایت کی سند اور ہے اور یہاں اور ۔ اسی وجہ سے الفاظ میں کچھ فرق ہے۔ وہاں فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَيْهِ کے الفاظ نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے ان الفاظ کی صحت ثابت کرنے کے لئے دو (۲) روایتیں نقل کی ہیں، تا باب کا عنوان پوری صحت کے ساتھ واضح ہو۔ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۳۷۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔