صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 265 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 265

صحيح البخاری جلد ا ۲۶۵ ۴- كتاب الوضوء قُحِطْتَ فَعَلَيْكَ الْوُضُوْءُ تَابَعَهُ وَهَبْ چاہیے۔وہب نے بھی نفر کی طرح یہ حدیث بیان قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ وَلَمْ کی۔انہوں نے کہا : ہم سے شعبہ نے بیان کیا۔يَقُلْ غُنْدَرٌ وَيَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ الْوُضُوءُ ابو عبدالله ( بخاری ) نے کہا: غندر اور سی نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے وضو کا ذکر نہیں کیا۔شریح : يَرَ الْوُضُوءَ إِلَّا الْمَخْرَجَيْنِ : اس باب میں بھی امام بخاری نے ایسے مسائل کا حل کیا ہے جن کے متعلق فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔نواقض وضو کے بارے میں اس امر میں سب متفق ہیں کہ دو طبعی راہوں سے غلاظتوں کے نکلنے پر وضوڈ ھرایا جائے۔اس میں مذی بھی شامل ہے۔مسلسل بول، استحاضہ، پتھری، کیڑوں اور ریاح وغیرہ کے نکلنے کی حالتیں جو بیماری کا نتیجہ ہیں مستی کی گئی ہیں۔گو در حقیقت یہ بھی ناقض وضو ہی ہیں اور اسی وجہ سے ہر نماز کے لئے الگ وضو کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔حالت جنابت وحیض میں وضو ہی نہیں بلکہ غسل کرنا ضروری ہے۔اس کو حدث اکبر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور پہلی حالت کو حدث اصغر۔اس ضمن میں فقہاء نے اپنی عادت کے مطابق یہ بحث اٹھائی ہے کہ منہ، ناک، کان یا جسم کے کسی دوسرے حصہ سے خون، پیپ وغیرہ نکلنے سے وضوئو تا ہے کہ نہیں۔امام بخاری نے إِلَّا مِنَ الْمَخْرَجَيْنِ کہ کر اس فریق کی رائے کی طرف اشارہ کیا ہے۔جو دو راستوں کے علاوہ کسی اور راستے سے کسی شئے کے نکلنے پر وضو دھرانا ضروری نہیں سمجھتے۔امام مالک نخئی اور مادہ کے نزدیک وہ چیزیں جو بوجہ بیماری اور زخم وغیرہ کے جسم سے نکلتی ہیں، ناقض وضو نہیں ہیں اور عطاء بن ابی رباح حسن بصری ، سفیان ثوری، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل ان کو ناقض وضو قرار دیتے ہیں۔جیسا کہ امام بخاری نے وَقَالَ عَطَاءٌ فِيمَنْ يَخْرُجُ کہہ کر ان لوگوں کے مذہب کی طرف اشارہ کیا ہے۔امام ابو حنیفہ اور امام ابن حزم کے نزدیک پیشاب، پاخانہ جیسی غلاظتیں جسم کے جس حصہ سے اور جس طرح بھی نکلیں ناقض وضو ہیں۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان غلاظتوں کا کتا یہ ذکر کیا ہے۔فرمایا: أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِّنَ الْغَائِطِ میں یہ غلاظتیں شامل ہیں۔پس ان کے نزدیک مخرج کی تخصیص نہیں۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۶۷) وَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِذَا ضَحِكَ فِي الصَّلَاةِ أَعَادَ الصَّلَاةَ: دوسرا اختلاف اس مسئلہ کے متعلق یہ ہے کہ آیا ہنسی سے وضوٹوٹ جاتا ہے یا نہیں۔حضرت جائز کا مذکورہ بالا قول بہتی نے نقل کیا ہے۔اس کی تائید میں انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت ابو موسیٰ اشعری اور ابوامامہ باہلی کے اقوال بھی نقل کئے ہیں کہ بنسی سے وضو میں خلل نہیں آتا۔مگر نماز میں خلل آجاتا ہے اور یہ مذہب معقول ہے۔اس کو امام بخاری نے لیا ہے۔امام مالک ، لیٹ اور امام شافعی کا بھی یہی مذہب ہے اور مخفی و حسن بصری کے نزدیک ہنسی ناقض صلوۃ ہونے کے علاوہ ناقض وضو بھی ہے۔امام ابوحنیفہ نے صرف نماز کی حالت میں قہقہ کو ناقض وضو قرار دیا ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے عمدۃ القاری جزء ثالث صفحہ ۴۸)