صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 263
صحيح البخاری جلد ا ۲۶۳ ۴- كتاب الوضوء الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ مُقبری سے سعید نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ کرتے ہوئے (ہمیں) بتلایا۔انہوں نے کہا: نبی الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ فِي الْمَسْجِدِ ﷺ نے فرمایا: بندہ نماز میں ہی ہوتا ہے جب تک يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ مَا لَمْ يُحْدِثُ فَقَالَ وہ مسجد میں نماز کا انتظار کرتا رہے، بشرطیکہ وہ بے وضو رَجُلٌ أَعْجَمِيٌّ مَّا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ نہ ہو جائے۔اس پر ایک انجمی شخص نے پوچھا: قَالَ الصَّوْتُ يَعْنِي الضَّرْطَةَ۔ابو ہریرہ ! یہ بے وضو ہونا کیا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا: آواز یعنی گوز ( پاد)۔اطرافه: ٤٤٥ ٤٧٧ ٦٤٧ ٦٤٨ ٦٥٩، ۲۱۱۹، ۳۲۲۹، 4717۔۱۷۷: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ ۱۷۷: ہم سے ابو ولید نے بیان کیا، کہا: ابن عیینہ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِي عَنْ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے زہری سے، زہری نے عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِهِ عَنِ النَّبِيِّ عباد بن تمیم سے، عباد نے اپنے چچا سے، ان کے چچا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْصَرِفْ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جب حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا۔تک آواز نہ سنے یا بو نہ پائے ، ( نماز سے ) نہ پھرے۔اطرافه ١٣٧، ٢٠٥٦ ۱۷۸ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيْدٍ قَالَ :۱۷۸ ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: جریر حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُنْذِرِ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے اعمش سے ، اعمش نے أَبِي يَعْلَى الثَّوْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْن منذرا بو یعلی ثوری سے، انہوں نے محمد بن حنفیہ سے روایت کی انہوں نے کہا کہ حضرت علی کہتے تھے : میں الْحَنَفِيَّةِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ كُنْتُ رَجُلًا ایسا شخص تھا جس کی ندی بہت نکلا کرتی تھی۔میں مَذَاءً فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُوْلَ اللهِ شرمایا کہ رسول اللہ ملے سے پوچھوں۔اس لئے میں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ نے مقداد بن اسوڈ سے کہا تو انہوں نے آپ سے ابْنَ الْأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ فِيْهِ الْوُضُوْءُ پوچھا۔آپ نے فرمایا: اس میں وضو ہی کرنا ہے۔اور اس حدیث کو شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کرتے وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ۔اطرافه: ۱۳۲، ۲۶۹۔ہوئے بیان کیا ہے۔