صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 261 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 261

صحيح البخاری جلد ا ۲۶۱ ۴- كتاب الوضوء صلى الله اللہ ﷺ کے زمانہ میں علیہ کے زمانہ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ فِي زَمَانِ رَسُوْلِ بتلایا۔ انہوں نے کہا کہ رسول الله اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَكُونُوا کے مسجد میں آیا جایا کرتے تھے اور پیشاب (بھی) يَرْشُوْنَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ۔ کر دیتے تھے۔ لوگ اس میں سے کچھ بھی نہ دھوتے۔ ١٧٥ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَالَ ۱۷۵: ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا: شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ابْنِ أَبِي السَّفَرِ عَنِ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابن ابی سفر سے۔ انہوں الشَّعْبِي عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ نے شعبی سے شعبی نے حضرت عدا حضرت عدی بن حاتم سے سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی ۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ فَقَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ فَقَتَلَ پوچھا۔ آپ نے فرمایا: جب تم اپنے سدھائے ۔ صلى الله علیہ سے ہوئے کتے کو چھوڑو اور وہ شکار مارے تو تم کھاؤ اور فَكُلْ وَإِذَا أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ اگر وہ کھالے تو تم نہ کھاؤ ۔ کیونکہ اس نے اُسے اپنے عَلَى نَفْسِهِ قُلْتُ أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ لئے ہی پکڑا ہے۔ میں نے کہا: میں اپنے کتے کو مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ قَالَ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا چھوڑوں اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا کتا پاؤں؟ آپ سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى نے فرمایا: نہ کھاؤ۔ کیونکہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ كَلْبِ آخر۔ پڑھی تھی اور دوسرے کتے پر نہیں پڑھی۔ إطرافه: ٢٠٥٤ ، ٥٤٧٥، ٥٤٧٦ ، ٥٤٧٧ ، ٥٤٨٣، ٥٤٨٤، ٥٤٨٥، ٥٤٨٦، 5487، 7397۔ تشريح : إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ التُسْمِيَّةُ عَلَى كُلِّ حَال ( کتاب الوضور باب ۸) کی یہ ایک اور مثال ہے۔ شارع اسلام نے ہر بات میں اللہ کے نام کو مقدم رکھا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے اعمال کا قبلہ رخ اللہ تعالیٰ کی ذات تھی۔ فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُونَ شَيْئًا : رَش کے معنی پانی چھڑکا۔ رش الشیئی کے معنی ہیں چیز کو دھویا۔ باب ٣٤ مَنْ لَمْ يَرَ الْوُضُوءَ إِلَّا مِنَ الْمَخْرَجَيْنِ مِنَ الْقُبْلِ وَالدُّبُرِ جو شخص دو (۲) راہوں یعنی آگے اور پیچھے سے ہی نکلنے کے سبب وضو کرنا ضروری سمجھتا ہو وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”یا تم میں سے کوئی حوائج مِنَ الْغَائِطِ (المائدة: ٧) وَقَالَ عَطَاءٌ ضروریہ سے فارغ ہو کر آیا ہو۔ اور عطاء نے کہا: