صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 248 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 248

صحيح البخاري - جلد ا ۲۴۸ - كتاب الوضوء وضو کر کے یعنی اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے اور اپنے آپ سے باتیں نہ کرے (غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) تو اس کے سابقہ قصور ڈھانپ دئے جاتے ہیں۔یعنی اس کے اثرات دبائے جاتے ہیں۔وہ اس نماز کے بعد ایک نیا انسان بن کر دنیا میں إِيَّاكَ نَعْبُدُ کے اقرار کے ساتھ آتا ہے۔یعنی اس کا بندہ ہوتا ہے، نہ اپنے نفس کا بندہ۔وہ اپنی مرضی نہیں بلکہ اپنے خالق کی مرضی پوری کرتا ہے۔اس کے اندر الہی خدمت بجالانے کی ایک نئی استعداد پیدا ہو جاتی ہے۔گناہ جو اس کی عبودیت کی راہ میں حائل تھا، وہ ذب جاتا ہے اور اس کا دل گناہ کی کدورت سے ایک گونہ صاف ہوتا ہے۔یہ نسبت و تعلق ہے وضو کا ( جو ظاہری طہارت ہے ) نماز کے ساتھ ( جو باطنی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔) یہ مقصد واضح کرنے کے لئے امام موصوف "باب نمبر ۲۴ میں دو روایتیں لائے ہیں اور مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُونِی کی تشریح دوسری روایت یعنی يُحْسِنُ وُضُونَهُ سے کی ہے۔جیسا کہ يُصَلَّى الصَّلوةَ کی تشریح، پہلی روایت یعنی صَلَّی رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِتْ فِيْهِمَا نَفْسَۂ سے کی ہے۔الصَّلوةَ میں ال تعریف و تخصیص کے لیے ہے۔یعنی وہ نماز پڑھے جو پڑھنے کا حق ہے۔إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلوةِ۔۔۔۔من مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلوة سے وہ وساوس مراد ہیں جو انسان اور اس کی نماز کے درمیان حائل ہوتے ہیں۔ان کی مغفرت کرنے سے یہ مراد ہے کہ ان پر پردہ ڈال کر انہیں چھپا دیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ وہ معطل ہو کر بے اثر ہو جاتے ہیں۔حَتَّى يُصَلِّيهَا۔اور اس کا طبعی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا انسان نماز کو جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے پڑھ لیتا ہے۔یہ مراد نہیں کہ دو نمازوں کے درمیان وہ جو گناہ کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کو بخشا چلا جائے گا۔یہ اسلام کی تعلیم کے صریح خلاف ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ۔یعنی نماز بے حیائی کے کاموں اور نا پسندیدہ باتوں اور حدود سے تجاوز کرنے سے روکتی ہے۔جو نمازی گناہ کی آلائشوں سے پاک وصاف نہیں ہوتے ، وہ اس آیت کے مصداق ہیں: وَيْلٌ لِلْمُصَلَّيْنَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلوتِهِمْ سَاهُو۔ہلاکت ہو ان نمازیوں کو جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیسا چاہتے ہیں اور نماز کیسی۔"الإحسان، یعنی نہایت عمدگی سے کام کرنے کا ارشاد ہر عمل کے لئے ہے۔(دیکھئے کتاب الایمان تشریح حدیث نمبر ۵۰) بَاب ٢٥ : الْإِسْتِنْثَارُ فِي الْوُضُوْءِ وضو کرتے وقت ناک صاف کرنا ذَكَرَهُ عُثْمَانُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ وَابْنُ حضرت عثمان ، حضرت عبداللہ بن زیڈ اور حضرت ابن۔عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ عباس رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے اس (مسئلہ ) کا ذکر کیا۔١٦١: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا :۱۶۱ ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: عبد اللہ نے عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ہم سے بیان کیا، کہا: یونس نے زہری سے روایت