صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 249 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 249

صحيح البخاري - جلد ا ۲۴۹ - كتاب الوضوء الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ أَنَّهُ کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: ابوادر لیس سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ سے سنا۔وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے۔آپ فَلْيَسْتَنْفِرْ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوْتِرْ۔نے فرمایا: جو وضو کرے تو ناک صاف کرے اور جو استنجا کے لئے ڈھیلے استعمال کرے تو طاق استعمال کرے۔طرفه: ١٦٢۔بَابِ ٢٦ : الْإِسْتِجْمَارُ وِتْرًا ڈھیلے طاق عدد لینا ١٦٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۱۶۲ ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ابوز ناد سے، ابوزناد الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرۃ سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ { مَاءًا * } سے کوئی وضو کرے تو چاہیے کہ اپنی ناک میں (پانی ) ڈالے۔پھر اس کو صاف کرے اور جو استنجا کے لئے ثُمَّ لِيَنْقُرْ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوْتِرْ وَإِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِّنْ نَّوْمِهِ فَلْيَغْسِلْ ڈھیلے لے تو وہ طاق لے اور اگر تم میں سے کوئی اپنی نیند سے جاگے تو چاہیے کہ وہ اپنے ہاتھ وضو کے پانی میں يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي وَضُوْئِهِ فَإِنَّ ڈالنے سے پہلے دھولے کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ۔جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں بسر کی ہے۔طرفه: ١٦١ : تشریح : الإِسْتِتَنَارُ فِي الْوُضُوْءِ وَالْاسْتِعْمَارُ فِي الاسْتِنْجَاءِ: امام بخاری جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے، تقدیم و تاخیر میں بھی اپنا کوئی نہ کوئی مقصد ملحوظ رکھتے ہیں۔باب میں وضو کی اصل غرض و غایت پر بحث تھی۔اس بحث کے ضمن میں ناک صاف کرنے اور ڈھیلے طاق عد در کھنے کے متعلق شارع اسلام عﷺ کا حکم پہلے بیان کیا ہے تا معلوم ہو کہ جہاں ظاہری صفائی مدنظر ہے وہاں ساتھ ہی ایک معنوی امر بھی ملحوظ ہے۔ناک کو صرف پانی لگا دینا مقصود نہیں بلکہ اس کو اچھی طرح صاف کرنا ہے۔اس کو استنفار کہتے ہیں، جو استنشاق یعنی ناک میں پانی لینے لفظ ”ماء فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفہ ۳۴۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔