صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 247
صحيح البخاري - جلد ا ۲۴۷ ۴- كتاب الوضوء حَدِيثًا لَّوْلَا آيَةٌ مَّا حَدَّثْتُكُمُوْهُ سَمِعْتُ ایک آیت نہ ہوتی۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ سنا۔ آپ فرماتے تھے: جو شخص وضو کرے اور اچھی لَا يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ طرح وضو کرے۔ پھر نماز پڑھے تو جو ( وسو سے ) اس کے اور اس کی نماز کے درمیان حائل ہوں گے ان کی وَيُصَلِّي الصَّلَاةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ حَتَّى يُصَلِّيَهَا قَالَ عُرْوَةُ اس کے لئے مغفرت کی جائے گی، یہاں تک کہ وہ نماز پڑھ لے گا۔ عروہ نے کہا: وہ آیت یہ ہے: إِنَّ الَّذِينَ الْآيَةَ إِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا يَكْتُمُونَ ۔ یعنی یقیناوہ لوگ جو اسے چھپاتے ہیں مِنَ الْبَيِّنَاتِ۔ (البقرة: ١٦٠) اطرافه: ١٥٩، ١٦٤، 1934، 6433۔ جو ہم نے واضح نشانات اور کامل ہدایت میں سے نازل کیا۔ تشریح : الْوُضُوءُ ثَلاثا ثلاثا : حدیث نمبر ۱۵۸،۱۵۷ صرف جواز کوثابت کرتی ہیں اور اب نمبر ۲ میں حدیث نمبر ۱۲۰،۱۵۹ جو حضرت عثمان سے مروی ہیں اصل ہے جس پر اکثر صحابہ و تابعین کا عملدرآمد تھا۔ اس حدیث میں یہ تصریح ہے: مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وَضُوئِي هَذَا ۔۔۔۔ یعنی جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے گا۔ پھر دو رکعتیں پڑھے گا اور ان کے درمیان اپنے آپ سے باتیں نہیں کرے گا تو اس سے جو قصور پہلے ہو چکے ہیں، ان کی پردہ پوشی کی جائے گی۔ یہ الفاظ عطاء بن یزید کی روایت میں ہیں؟ جو ابن شہاب زہری نے نقل کئے ہیں اور اس باب میں جو روایت انہوں نے عروہ بن زبیر سے نقل کی ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں : لا : لَا يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ يُحْسِنُ وُضُوءَهُ وَيُصَلِّي الصَّلوةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلوة ۔۔۔ یعنی جو اچھی طرح وضو کرے گا اور جیسے نماز پڑھنے کا حق ہے ویسے پڑھے گا تو جو وسو سے اس کے اور اس کی نماز کے درمیان حائل ہوں گے، ان کی مغفرت کی جائے گی ۔ امام بخاری نے یہ روایت آخر میں لا کر وضو اور نماز کی اصل غرض واضح کر دی ہے۔ لَا يُحَدِّثَ فِيهِمَا نَفْسَهُ۔ خیالات کا انتشار بہت حد تک وضو سے رک جاتا ہے۔ انسان جب کام کاج سے فارغ ہو کر آتا ہے تو اس کے بعض قومی دبے ہوئے ہوتے ہیں، جس سے تھکاوٹ محسوس کرتا ہے اور بعض قویٰ اُبھرے ہوئے ہوتے ہیں، جس سے اعصاب میں ہیجان و اضطراب محسوس کرتا ہے۔ پانی دبے ہوئے قومی کو ابھار کر اور اُبھرے ہوئے قومی کو دبا کر انہیں حد اعتدال میں لاتا اور سکون کی حالت پیدا کرتا ہے۔ جیسا کہ ہم نشی میں دیکھتے ہیں کہ اگر بے ہوش آدمی پر پانی چھڑ کا جائے تو وہ ہوش میں آجاتا ہے۔ (روایت نمبر ۱۹۴) اور غصے کی حالت میں اگر پانی پیا جائے تو جوش مدھم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وضو کرنے والا اعضاء دھونے پر اپنے اندر ایک تسکین پاتا ہے جو عبادت کے لئے از بس ضروری ہے اور انسان اس اطمینان وسکون کی حالت کے بعد اپنی توجہ بغیر خیالات کے انتشار کے ذکر الہی میں قائم رکھ سکتا ہے۔ یہی مطلب ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ میری طرح