صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 244 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 244

صحيح البخاري - جلد ا ۲۴۴ ۴- كتاب الوضوء شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اپنے اندر ہر ضرورت پوری کرنے والا ہے۔ جب پانی نہ ملے تو ڈھیلے، پتھر، ہر ایسی چیز سے جس سے سے آلائش آ دور ہو سکتی ہو؟ استنجا کرنا جائز ہے۔ استنجاء (جو نجو سے ہے ) کے معنی ہیں غلاظت دور کرنا ، خواہ کپڑے سے ہو یا کاغذ یا پتھر سے مگر ہڈی اور لید نہ ہو۔ نا پاک سے پاکیزگی حاصل کرنے کو شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ فطرت رد کرتی ہے۔ هَذَا رِكْسٌ : رکس اور رجز ایک ہی ہیں۔ یعنی یہ لید نا پاک ہے۔ ڈھیلوں وغیرہ سے استنجا کرنے کے یہ معنی نہیں کہ پانی ملنے پر طہارت نہ کی جائے ۔ بلکہ یہ تو مجبوری کی حالت میں جواز کی ایک صورت ہے۔ جب پانی ملے تو پانی سے طہارت کرنی چاہیے۔ اس کی مزید تفصیل باب نمبر ۴ ۵ تا ۵۶ ، حدیث نمبر ۲۱۴ تا ۲۱۸ میں دیکھی جائے ، جہاں اس کے متعلق آپ نے سخت تاکید فرمائی ہے۔ باب ۲۱ : لَا يُسْتَنْجَى بِرَوْثٍ لید سے استنجا نہ کیا جائے ١٥٦ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۵۶: ہم سے ابونعیم نے : ابونعیم نے بیان کیا، کہا: "ہیر نے زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ لَيْسَ أَبُو ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو اسحاق سے روایت کی۔ عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ انہوں نے کہا: ابو عبیدہ نے اس کا ذکر نہیں کیا لیکن الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ عبد الرحمن بن اسود نے اپنے باپ سے روایت يَقُوْلُ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کرتے ہوئے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ الْغَائِطَ فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ (بن مسعود) کو یہ کہتے سنا کہ نبی یا قضائے حاجت فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ کے لئے گئے اور مجھ سے فرمایا کہ میں آپ کو تین پتھر فَلَمْ أَجِدْهُ فَأَخَذْتُ رَوْتَةً فَأَتَيْتُهُ بِهَا لا دوں ۔ مجھ کو دو پتھر ملے اور تیسرے کو تلاش کیا تو مجھے فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ نہ ملا۔ اس پر میں نے لید لے لی اور یہ لا کر آپ کو هَذَا رِكْسٌ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ دیے - آپ نے دو پتھر تو لے لئے اور لید پھینک دی عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي اور فرمایا: یہ پلید ہے۔ اور ابراہیم بن یوسف نے اپنے سے نقل کیا۔ انہوں نے ابواسحاق سے روایت عَبْدُ الرَّحْمَنِ۔ باپ سے کی کہ عبدالرحمن نے مجھ سے بیان کیا۔