صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 243
صحيح البخاري - جلد ا - كتاب الوضوء أَبِي كَثِيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ سے، کسی نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے أَبِيْهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی ﷺ نے قَالَ إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَأْخُذَنَّ ذَكَرَهُ روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی بِيَمِيْنِهِ وَلَا يَسْتَنْجِي بِيَمِينِهِ وَلَا يَتَنَفَّسٌ بِیشاب کرے تو اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرمگاہ نہ پکڑے اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ فِي الْإِنَاءِ اطرافه: ١٥٣، ٥٦٣٠۔برتن میں سانس لے۔بَابِ ۲۰ : الْإِسْتِنْجَاءُ بِالْحِجَارَةِ ڈھیلوں سے استنجا کرنا ١٥٥: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۱۵۵: ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا، کہا: عمرو بن الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ كي بن سعید بن عمرو کی نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے اپنے سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْمَكِّيُّ عَنْ جَدِهِ عَنْ دادا سے، اُن کے دادا نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اتَّبَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله کی کہ انہوں نے کہا میں نبی ﷺ کے پیچھے ہو لیا اور آپ قضائے حاجت کے لئے نکلے اور آپ مڑ کر ادھر ادھر نہیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجَ لِحَاجَتِهِ وَكَانَ دیکھتے تھے۔میں آپ کے قریب ہوا تو آپ نے فرمایا: لَا يَلْتَفِتُ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقَالَ ابْغِنِي میرے لئے ڈھیلے تلاش کرو تا کہ میں ان سے استنجا کروں أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضُ بِهَا أَوْ نَحْوَهُ وَلَا یا اسی قسم کا فقرہ (فرمایا) اور نہ ہڈی اور نہ لید میرے پاس تَأْتِنِي بِعَظْمٍ وَّلَا رَوْثٍ فَأَتَيْتُهُ بِأَحْجَارٍ لاتا۔چنانچہ میں اپنے کپڑے کے کونے میں کچھ پھر آپ بِطَرَفِ ثِيَابِي فَوَضَعْتُهَا إِلَى جَنْبِهِ کے پاس لے آیا اور انہیں آپ کے پاس رکھ دیا اور پھر وَأَعْرَضْتُ عَنْهُ فَلَمَّا قَضَى أَتْبَعَهُ بِهِنَّ میں آپ سے ایک طرف ہو گیا۔جب آپ فارغ ہوئے تو آپ انہیں استعمال میں لائے۔طرفه: ٣٨٦٠ تشریح : الإِسْتِجَاء بِالْحِجَارَة : جن لوگوں نے انتج میں پانی استعمال کرنے پرزور دیا ہے انہوں نے بعض حالات کی مجبوری مد نظر نہیں رکھی اور بہتوں کو نماز جیسے ضروری فرض کو ادا کرنے سے روک دیا ہے۔