صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 245
صحيح البخاري - جلد ا ۲۴۵ ۴- كتاب الوضوء بَاب ۲۲ : الْوُضُوْءُ مَرَّةً مَرَّةً وضو میں اعضاء کا ایک ایک بار دھونا ١٥٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۱۵۷ ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً حضرت ابن عباس سے رویت کی ۔ انہوں نے کہا کہ مَرَّةً۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک بار اعضاء دھوئے۔ تشریح : امام بخاری نے احتجا کے متعلق چھ آداب طہارت بیان کرنے کے بعد وضو کے بعد وضو کے متعلق تین باب قائم کئے ہیں اور ان میں ایک سے تین بار تک اعضاء دھونے کے بارے میں جو روایتیں آئی ہیں ان کو پیش کر کے وضو کے متعلق تینوں باتیں ہی جائز ثابت کی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شروع میں جو وضو کی بحث اُٹھائی اُٹھائی تھی وہ محض وضو کی تعریف و تجدید بیان کرنے کے لئے تھی۔ حالات کے لحاظ سے جونسی صورت مناسب ہو، اختیار کی جائے۔ باب ۲۳ : الْوُضُوْءُ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وضو میں اعضاء دو دو بار دھونا ١٥٨: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى ۱۵۸ ہم سے حسین بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ يونس بن محمد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: فلح حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بن سلیمان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبد اللہ بن ابْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو ابی بکر ( بن محمد ) بن عمرو بن حزم سے، عبداللہ نے ابْنِ حَزْمٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ عباد بن تمیم سے، عباد نے حضرت عبداللہ بن زید ابْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو بار تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ۔ اعضاء دھوئے۔ عمدۃ القاری میں اس جگہ ان کا پورا نام عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ “ درج ہے۔