صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 237 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 237

صحيح البخاري - جلد ا ۲۳۷ ۴ - كتاب الوضوء عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ کرائیں ۔ مگر رسول اللہ ﷺ ایسا نہ کرتے ۔ ایک صلى الله عليه زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رات عشاء کے وقت حضرت سوده به سودہ بنت زمعہ نبی لَيْلَةً مِّنَ اللَّيَالِي عِشَاءً وَكَانَتِ امْرَأَةً کی بیوی باہر گئیں اور وہ لمبے قد کی تھیں؟ تو حضرت طَوِيْلَةً فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلَا قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا عمرؓ نے ان کو پکار کر کہا: سودہ! ہم نے تمہیں پہچان لیا سَوْدَةُ حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنَزَّلَ الْحِجَابُ ہے۔ کیونکہ وہ (بہت) چاہتے تھے کہ حجاب کے متعلق فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ۔ (الأحزاب: ٥٤) وحی نازل ہو۔ آخر اللہ تعالیٰ نے حجاب ( کے حکم کے متعلق ) آیت نازل کی۔ اطرافه: ١٤٧، ٤٧٩٥، ٥٢٣٧، ٦٢٤٠۔ ١٤٧ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۴۷ : ہم سے زکریا نے بیان کیا، کہا: ابواسامہ نے أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ نے اپنے باپ ( عروہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ سے۔ حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أُذِنَ أَنْ تَخْرُجْنَ فِي سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: (تمہیں) اجازت حَاجَتِكُنَّ قَالَ هِشَامٌ يَعْنِي الْبَرَازَ۔ دی گئی ہے کہ تم اپنی ضرورت کے لئے باہر جاؤ ۔ ہشام اطرافه: ١٤٦، ٤٧٩٥، ٥٢٣٧، ٦٢٤٠۔ نے کہا: یعنی قضائے حاجت کے لئے۔ تشریح : خُرُوجُ النِّسَاءِ إِلَى الْبَرَازِ : امام بخاری اس باب بخاری اس باب میں دورواتیں لائے ہیں تا پہلی روایت سے جو شبہ پیدا ہوتا ہے وہ دوسری سے دور ہو جائے۔ فَأَنْزَلَ اللهُ آيَةَ الْحِجَابِ کے الفاظ سے یہ شبہ پیدا ہوتا تھا کہ اسی وقت حجاب کا حکم نازل ہوا، ایسا نہیں ۔ دوسری روایت جو زکریا بن بکی کی ہے اور کتاب التفسیر میں تفصیل سے نقل کی گئی ہے ، اس میں یہ الفاظ ہیں : خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَ مَا ضُرِبَ الْحِجَابُ لِحَاجَتِهَا وَكَانَتِ امْرَأَةً جَسِيمَةً لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا فَرَأَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بخاری کتاب التفسير باب قوله لا تدخلوا بيوت النبى الله إلا ان يؤذن لكم روایت نمبر ۴۷۹۵) یعنی حجاب کا حکم ہونے کے بعد حضرت سودہ باہر نکلیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جو فرمایا: قَدْ أُدْنَ أَنْ تَخْرُجْنَ فِي حَاجَتِكُنَّ تو یہ آیات حجاب سے استنباط کرنے کے بعد فرمایا۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۲۸) یعنی حجاب ضروریات زندگی پورا کرنے میں روک نہیں اور حضرت عمر کے تشدد کی تردید فرمائی ۔ حضرت عمرؓ کا حضرت سودہ" کو اس طرح ٹوکنا بھی بتلاتا ہے کہ حجاب کا حکم نازل ہو چکا تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے حضرت سودہ کا رات کے وقت نکلنا بھی ناپسند کیا ۔ مگر حضرت عمر اپنی اس رائے