صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 237
صحيح البخاري - جلد ا ۲۳۷ - كتاب الوضوء عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ کرائیں۔مگر رسول اللہ ﷺ ایسا نہ کرتے۔ایک ایسا کرتے۔زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رات عشاء کے وقت حضرت سودہ بنت زمعہ نبی ﷺ لَيْلَةً مِّنَ اللَّيَالِي عِشَاءَ وَكَانَتِ امْرَأَةً کی بیوی باہر گئیں اور وہ لمبے قد کی تھیں، تو حضرت طَوِيْلَةً فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلَا قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا عمر نے ان کو پکار کر کہا: سودہ! ہم نے تمہیں پہچان لیا سَوْدَةُ حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنَزَّلَ الْحِجَابُ ہے۔کیونکہ وہ (بہت) چاہتے تھے کہ حجاب کے متعلق فَأَنْزَلَ اللهُ آيَةَ الْحِجَابِ۔(الأحزاب: ٥٤) وحی نازل ہو۔آخر اللہ تعالیٰ نے حجاب ( کے حکم کے متعلق) آیت نازل کی۔اطرافه ١٤٧، ٤٧٩٥ ٥٢٣٧ ٦٢٤٠۔١٤٧: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۴۷ ہم سے زکریا نے بیان کیا، کہا: ابواسامہ نے أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ عروہ) سے، انہوں نے حضرت عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عائشہ سے۔حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أُذِنَ أَنْ تَخْرُجْنَ فِي سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: (تمہیں ) اجازت حَاجَتِكُنَّ قَالَ هِشَامٌ يَعْنِي الْبَرَازَ۔دی گئی ہے کہ تم اپنی ضرورت کے لئے باہر جاؤ۔ہشام نے کہا: یعنی قضائے حاجت کے لئے۔اطرافه: ١٤٦، ٤٧٩٥ ٥٢٣٧ ٦٢٤٠- تشریح: حُرُوجُ النِّسَاءِ إِلَى الْبَرَازِ: امام بخاری اس باب میں دورو اتیں لائے ہیں تا پیلی روایت سے جو شبہ پیدا ہوتا ہے وہ دوسری سے دور ہو جائے۔فَأَنْزَلَ اللهُ آيَةَ الْحِجَاب کے الفاظ سے یہ شبہ پیدا ہوتا تھا کہ اس وقت حجاب کا حکم نازل ہوا، ایسا نہیں۔دوسری روایت جو زکریا بن تیجی کی ہے اور کتاب التفسیر میں تفصیل سے نقل کی گئی ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں: خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَ مَا ضُرِبَ الْحِجَابُ لِحَاجَتِهَا وَكَانَتِ امْرَأَةً جَسِيمَةٌ لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ يَّعْرِفُهَا فَرَأَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔۔(بخاری کتاب التفسير باب قوله لا تدخلوا بيوت النبى الله إلا ان يؤذن لكم روایت نمبر ۴۷۹) یعنی حجاب کا حکم ہونے کے بعد حضرت سودہ باہر نکلیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جو فرمایا: قَدْ أُذِنَ أَنْ تَخْرُجْنَ فِي حَاجَتِكُنَّ توي آیات حجاب سے استنباط کرنے کے بعد فرمایا۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۲۸) یعنی حجاب ضروریات زندگی پورا کرنے میں روک نہیں اور حضرت عمرؓ کے تشدد کی تردید فرمائی۔حضرت عمرؓ کا حضرت سودہ " کو اس طرح ٹوکنا بھی بتلاتا ہے کہ حجاب کا حکم نازل ہو چکا تھا۔اسی وجہ سے انہوں نے حضرت سودہ کا رات کے وقت نکلنا بھی ناپسند کیا۔مگر حضرت عمر اپنی اس رائے