صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 236
صحيح البخاري - جلد | ۲۳۶ ۴- كتاب الوضوء قضائے حاجت کرنے والے اور قبلہ کے درمیان اوٹ ہوتی ہے۔ دیوار کے سامنے ہونے سے قبلہ کا تصور غائب ہو جاتا ہے اور کھلی فضاء میں کسی قسم کی اوٹ نہ ہونے کی وجہ سے سا۔ اوٹ نہ ہونے کی وجہ سے سامنے یا پیچھے قبلہ ہی قبلہ ہوتا ہے۔ اس لئے وہاں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا ممنوع ہے۔ بعض فقہاء عمارت میں بھی اسے منع سمجھتے ہیں۔ ( فتح الباری جزء اول صفحه ۳۲۳) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں ان کے خیال کی تردید کی ہے۔ لَعَلَّكَ مِنَ الَّذِينَ : یہ خطاب واسع بن حبان سے ہے۔ مسلم کی حدیث میں واسع کی یہ روایت یوں شروع ہوتی ہے : كُنتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ ۔ یعنی میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عبداللہ بن عمر بیٹھے ہیں۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو ان کی طرف منہ پھیر کر ہو بیٹھا۔ تب انہوں نے یہ کہا : يَقُولُ إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ ۔۔۔۔ (مسلم۔ كتاب الطهارة۔ بالاستطابة) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے وار واسع کو اس طرح زمین سے چپکے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا اور بے یوں بات شروع کی کہ کچھ لوگ ہیں جو خانہ کعبہ کا اتنا ادب کرتے ہیں کہ اس طرف چوتڑ نہیں کرتے۔ شاید تم نے جو نماز زمین سے چپکے ہوئے پڑھی ہے تو اسی ادب و احترام کو مد نظر رکھتے ہوئے پڑھی ہے۔ جس پر واسع نے جواب دیا : لا أَدْرِی وَاللهِ ۔ یعنی یہ مسئلہ میں نہیں جانتا۔ یا یہ کہ مجھے پتہ نہیں کہ میں اس طرح نماز پڑھ رہا تھا۔ بعض لوگوں سے مراد حضرت ابو ہریرہ ، حضرت ابوایوب انصاری وغیرہ صحابہ ہیں جو قضائے حاجت کے وقت ہر حالت میں خانہ کعبہ کی طرف پیٹھ کرنے کو برا سمجھتے تھے خواہ صحرا میں ہوں یا گھر میں ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۲۶) باب ۱۳ : خُرُوجُ النِّسَاءِ إِلَى الْبَرَازِ عورتوں کا ( قضائے حاجت کے لئے ) گھر سے باہر نکلنا ١٤٦ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ ۱۴۶: ہم سے یحی بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا بھیل نے مجھے ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ عروہ ہے ۔ عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ صلى الله ۔ علیه يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ بی ﷺ کی بیویاں جب قضائے حاجت کے لئے وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَحُ فَكَانَ عُمَرُ يَقُوْلُ باہر مناصع کی طرف جاتیں تو رات کو نکلا کرتی تھیں لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْجُبْ اور مناصع ایک وسیع میدان ہے اور حضرت عمرؓ نبی الله عروسه نِسَاءَكَ فَلَمْ يَكُنْ رَّسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ علم سے کہا کرتے تھے کہ اپنی بیویوں کو پردہ