صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 238
صحيح البخاري - جلد ا ۲۳۸ ۴ - كتاب الوضوء میں غلطی پر تھے۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے پردے کے متعلق جو تشد د اختیار کر رکھا ہے وہ بھی شریعت اسلام کے منشاء کے بالکل بر خلاف ہے۔ فَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ لِلنَّبِيِّ اللهِ احْجُبُ نِسَاءَكَ : یہ بطور جملہ معترضہ کے ہے۔ یعنی حضرت عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا کرتے تھے کہ اپنی بیویوں کو پردہ کرائیں ۔ یہ ان کا مشورہ تھا۔ محض اپنے اس مشورہ کی بناء پر رات کے وقت آپ کی بیویوں کو نکلنے سے منع کرنا، یہ حضرت عمر جیسے جلیل القدر صحابی سے بالکل بعید تھا۔ فَلَمْ يَكُن رَّسُولُ الله الا الله يَفْعَلُ : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مشورہ پر عمل نہیں کرتے تھے تو ہرگز باور نہیں ہو سکتا تھا کہ حضرت عمرؓ نے خواہ مخواہ آپ کی بیوی کو حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے روکا ہو۔ اس لئے زکریا کی روایت واضح اور م واضح اور معقول ہے ۔ دونوں روایتیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ پہلی روایت میں ایک جملہ معترضہ ہے جو پہلے واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ احکام کے جاری کرنے میں انبیاء علیہم السلام حد درجہ احتیاط وادب سے کام لیتے ہیں۔ اپنی طرف سے وہ کوئی حکم نہیں دیتے۔ باوجود حضرت عمر کے توجہ دلانے کے آپ نے عورتوں کو اس وقت تک پردہ کرنے کے لئے نہیں کہا جب تک کہ آپ کو وحی الہی نہیں ہوئی۔ بَاب ١٤ : التَّبَرُّزُ فِي الْبُيُوتِ گھروں میں ( یعنی بیت الخلاء میں ) پاخانہ پھرنا ١٤٨ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ۱۴۸ ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ عُبَيْدِ انس بن عیاض نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبید اللہ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ ( بن عمر) سے عبید اللہ نے محمد بن یحی بن حبان سے، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ انہوں نے واسع بن حبان سے، واسع نے حضرت قَالَ ارْتَقَيْتُ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ حَفْصَةَ عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں لِبَعْضِ حَاجَتِي فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ اپنے کسی کام کے لئے حضرت حفصہ لئے حضرت حفصہ کے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِيْ حَاجَتَهُ : مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ۔ اطرافه 14٥، 149، ٣١٠٢۔ کہ آپ قضائے حاجت کر رہے تھے۔ قبلہ کی طرف پیٹھ کئے ہوئے تھے اور شام کی طرف منہ۔ ١٤٩ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۱۴۹ : ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُوْنَ قَالَ یزید بن ہارون نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: پیچی