صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 228 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 228

صحيح البخاري - جلد ا تشریح ۲۲۸ - كتاب الوضوء التَّخْفِيفُ فِی الْوُضُوءِ : بعض لوگ جو وضو کرنے بیٹھتے ہیں تو وسوسہ کی وجہ سے اعضاء کو بار بار دھوتے ہیں۔یہاں تک کہ امام تو نماز سے فارغ ہو جاتا ہے مگر ان کا وضو ختم نہیں ہوتا۔یہ دوسری ہدایت ہے وہموں کے لئے اور اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پیش کی گئی ہے۔وُضُوءًا خَفِيفًا سے یہ مراد ہیں کہ ادھور اوضوء کرتے۔بلکہ جلدی سے فارغ ہونا مراد ہے۔يُخَفِّفُهُ عَمْرُو ويُقلّله۔یعنی عمرو بن دینار بیان کرتے تھے کہ آپ نے اعضاء کو آہستہ آہستہ دھویا۔زور سے نہیں ملا اور تین تین بار نہیں دھویا۔بلکہ ایک ہی بار پر کفایت کی۔خاص حالت میں آپ نے ایسا کیا ہے اور ضرورت کے وقت مثلاً جب پانی کم ہو یا بدن پہلے ہی سے اچھی طرح صاف ہو یا وقت تنگ ہو تو ایک بار دھونے پر اکتفا کیا جاسکتا ہے۔فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ نَفَخَ کا ترجمہ خراٹے لینے لگے، صحیح نہیں۔بلکہ ہلکی سی نین یا اونگھ میں بعض وقت جو سانس گہری ہو جاتی ہے اس کو نفخ کہتے ہیں۔جس میں ایک خفیف سی ربودگی طاری ہوتی ہے اور منہ سے پھونک نکل جاتی ہے۔جس سے انسان بسا اوقات چونک پڑتا ہے۔ایسی حالت میں بعض وقت ہوش بھی قائم ہوتا ہے۔علاوہ ازیں انبیاء کی حالت ذکر الہی میں دائگی استغراق کی وجہ سے بالکل نرالی ہوتی ہے۔نیند کی حالت میں بھی وہ غافل نہیں ہوتے۔اسی وجہ سے سفیان بن عیینہ نے عمر و بن دینار سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ آپ کی آنکھ تو سوتی تھی مگر دل نہیں سوتا تھا؟ تو انہوں نے جواب میں انکار نہیں کیا، بلکہ تائید کی اور بتلایا کہ اسی قلبی کیفیت کی وجہ سے انبیاء کی رویا بھی وحی کی ایک تجلی ہوتی ہے جس سے وہ ایک لمحہ کے لئے بھی خالی نہیں ہوتے۔اسی وجہ سے حضرت ابراہیم نے خواب کو قطعی حکم سمجھا۔یہ بات دوسروں کو حاصل نہیں ہوتی۔اس لئے ان کو اس خاص حالت پر اپنی حالت کا قیاس نہیں کرنا چاہیے۔اس حدیث سے ضمنا یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ نیند فی ذاتہ ناقض وضو نہیں بلکہ در حقیقت وضوٹوٹنے کا اصل سبب وہ غفلت ہے جس کی وجہ سے سونے والا نہیں جانتا کہ حدث کی حالت پیدا ہوئی ہے یا نہیں۔الْإِنْقَاءُ بَاب ٦ : إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ وضو پورے طور پر کرنا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِسْبَاغُ الْوُضُوْءِ اور حضرت ابن عمرؓ نے بھی کہا: پورے طور پر وضوء کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اچھی طرح صاف کیا جائے۔۱۳۹ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۱۳۹ ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ نے بیان کیا۔عَنْ مَّالِكِ عَنْ مُّوْسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ انہوں نے مالک سے، مالک نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے گریب سے، جو کہ حضرت ابن عباس کے كُرَيْبٍ مُّوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ (آزاد کردہ) غلام تھے۔انہوں نے حضرت اسامہ