صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 227 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 227

صحيح البخاري - جلد ا ۲۲۷ ۴- كتاب الوضوء مَرَّةٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ كُرَيْبِ عَنِ ابْنِ اور نماز پڑھی۔نیز سفیان نے یہی حدیث ہمیں کئی بار عمر و عَبَّاسٍ قَالَ بِتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُوْنَةَ سے روایت کرتے ہوئے بتلائی۔عمرو نے گریب سے، لَيْلَةً فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ گریب نے حضرت ابن عباس سے رویت کی۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی خالہ حضرت میمونہ کے پاس ایک رات مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ قَامَ رہا۔ہی رات کو سو گئے۔جب کچھ رات گزار لی نبی کہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تولي الا اٹھے اور ایک مشکیزہ سے جو کہ لٹکا ہوا تھا، فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنِّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيْفًا (پانی لے کر ) ہلکا سا وضو کیا۔عمر واس وضو کو ہلکا اور مختصر يُخَفِّفُهُ عَمْرُو وَيُقَلِّلُهُ وَقَامَ يُصَلِّي جلاتے تھے۔آپ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔فَتَوَضَّأْتُ نَحْوًا مِّمَّا تَوَضَّأَ ثُمَّ جِئْتُ میں نے بھی اسی طرح وضو کیا جیسا کہ آپ نے وضو کیا تھا فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ اور پھر آ کر آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔اور سفیان نے کبھی یوں کہا کہ آپ کے شمال کی طرف تو آپ نے عَنْ شِمَالِهِ فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِيْنِهِ مجھے ہٹا کر اپنی دائیں طرف کر دیا۔پھر آپ نے جتنی اللہ ثُمَّ صَلَّى مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ نے چاہی نماز پڑھی۔اس کے بعد آپ لیٹ گئے اور حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ الْمُنَادِي فَآذَنَهُ سو گئے۔یہاں تک کہ آپ گہری سانس لینے لگے۔پھر بِالصَّلَاةِ فَقَامَ مَعَهُ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى مَوَزّن آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ کو نماز کی وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قُلْنَا لِعَمْرِو إِنَّ نَاسًا اطلاع دی تو آپ اُٹھ کر اس کے ساتھ نماز کے لئے گئے اور نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔ہم نے عمرو سے کہا: بعض يَقُوْلُوْنَ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ کی آنکھ تو سوتی تھی اور وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالَ آپ کا دل نہیں سویا کرتا تھا۔عمرو نے کہا: میں نے عبید عَمْرُو سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ بن عمیر کو کہتے سنا کہ انبیاء کی خواب وحی ہوتی ہے اور اس رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ ثُمَّ قَرَأَ إِنِّي أَرى فِي کے بعد انہوں نے یہ آیت پڑھی: (إِنِّی أَرَی فِی الْمَنَامِ) یعنی یقیناً میں سوتے میں دیکھا کرتا ہوں کہ میں تجھے الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ (الصافات: ١٠٣)۔ذبح کر رہا ہوں۔اطرافه: ۱۱۷، ۱۸۳، ۶۹۷، ۶۹۸، ۶۹۹ ،۷۲۶ ،۸۵۹۷۲۸، ۱۱۹۸، ٤٥٦٩، ٤٥٧٠، ٤٥٧٢،٤٥٧١ ، ٥۹۱۹، ٦٢١٥، ٦٢١٦، ٧٤٥٢۔ابن اسکن کی روایت میں یہاں فَقَامَ کی بجائے قیام کا لفظ ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۱۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے