صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 229
صحيح البخاری جلد ا ۲۲۹ م - كتاب الوضوء زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُوْلُ دَفَعَ رَسُوْلُ اللهِ بن زید سے روایت کی کہ انہوں نے (حضرت اسامہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى سے سنا۔وہ کہتے تھے : رسول اللہ علہ عرفات سے إِذَا كَانَ بِالشَّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ واپس آئے۔جب گھاٹی میں پہنچے تو آپ نے اتر کر وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ فَقُلْتُ الصَّلَاةَ يَا پیشاب کیا۔پھر وضو کیا اور وضو پوری طرح نہ کیا۔تو رَسُوْلَ اللهِ فَقَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَكَ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! کیا آپ نماز پڑھیں گے؟ فرمایا: نماز تو آگے جا کر پڑھیں گے۔پھر آپ فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ سوار ہو گئے۔آپ جب مزدلفہ پہنچے تو آپ نے اتر فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أُقِيْمَتِ کر وضو کیا اور پورے طور پر وضو کیا۔پھر نماز کی تکبیر الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاحَ كُلُّ کہی گئی تو آپ نے مغرب کی نماز پڑھی۔اس کے إِنْسَانٍ بَعِيْرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أُقِيْمَتِ بعد ہر حص نے اپنا اونٹ اپنے ڈیرے میں بٹھایا۔پھر الْعِشَاءُ فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلَّ بَيْنَهُمَا۔عشاء کی نماز کی تکبیر کہی گئی اور آپ نے نماز پڑھائی اطرافه: ١٨١، ١٦٦٧، ١٦٦٩، ١٦٧٢۔تشریح: شخص۔اور ان دونوں کے درمیان آپ نے کوئی نماز نہ پڑھی۔اِسْبَاعُ الْوُضُوءِ: اس باب میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ وضوکی تشریح کا اعتبار کمیت کے کر رہے ہیں۔ایک ہلکا وضو ہے جس میں اعضاء ایک ہی بار چلو بھر پانی لے کر دھوئے جاتے ہیں اور ایک پورا وضو ہے، جس میں اعضاء اچھی طرح صاف کر کے دھوئے جاتے ہیں۔پیشاب کرنے کے بعد آپ نے وضو کیا اور ہلکا وضو کیا۔حضرت اسامہ بن زید کو خیال ہوا کہ شاید آپ نماز پڑھیں گے۔مگر آپ نے نماز نہیں پڑھی اور ایک دوسرا وضو کیا، جو پورے طور پر کیا۔یعنی اعضاء کو اچھی طرح دھویا اور مغرب کی نماز پڑھی اور یہ وضو اس وقت کیا جب آپ نے قیام کیا تھا۔ثُمَّ أَنَاحَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيْرَهُ فِي مَنزِلِہ۔ہر ایک نے ڈیرا لگا دیا۔ایسے وقت میں سفر کی تھکان اور گرد وغبار کا یہی تقاضا تھا کہ اچھی طرح اعضاء دھوئے جاتے۔پہلا وضو آپ نے سفر کے اثناء میں ہلکا سا اس لئے کیا کہ آپ باوضور ہا کرتے تھے۔یہ حدیث لا کر امام بخاری نے بتلایا کہ ہلکا یا پورا وضو آپ موقع ومحل پر اور ضرورت کے ماتحت کیا کرتے تھے اور ہلکے وضو سے یہ مراد نہیں کہ ادھورا وضو کیا کرتے اگر ادھورا ہوتا تو حضرت اسامہ یہ نہ پوچھتے کہ آپ نماز پڑھیں گے۔الانقاء : باب کے عنوان میں یہ جو ہے: وَقَدْ قَالَ ابْنُ عُمَرَ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ الْإِنْقَاءُ ، یہ اس طرف توجہ دلانے کے لئے کہ وضو کرنے سے مقصد صفائی ہے نہ کہ صرف پانی چپڑ لینا ہے۔حضرت ابن عمر کی یہ روایت عبدالرزاق نے صحیح سند سے نقل کی ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۱۶)