صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 226
صحيح البخاري - جلد ا ۲۲۶ بَاب ٤ : لَا يَتَوَضَّأُ مِنَ الشَّيِّ حَتَّى يَسْتَيْقِنَ شک کی وجہ سے وضو نہ کیا جائے جب تک کہ یقین نہ ہو جائے - كتاب الوضوء :۱۳۷: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۳۷: ہم سے علی نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہم سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدِ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: زُہری نے ہمیں بتلایا۔ابْنِ الْمُسَيِّبِ وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيْمٍ زہری نے سعید بن مسیب سے اور عباد بن تمیم عَنْ عَمِهِ أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ سے عباد نے اپنے چچا سے روایت کی کہ انہوں نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ الَّذِي رَسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس آدمی کی شکایت کی جسے یہ خیال ہو جاتا ہے کہ وہ نماز میں يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ کچھ محسوس کرتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ وہ نہ پھرے یا فَقَالَ لَا يَنْقَتِلْ أَوْ لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى (فرمایا:) نہ مڑے جب تک کہ آواز نہ سنے یا بونہ يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا۔پائے۔اطرافه: ۱۷۷، ٢٠٥٦۔تشریح : لَا يَتَوَضَّأُ مِنَ الشَّكِ: وضو کے تعلق سب سے پہی ہدایت ان دہمیں کے متعلق نقل کی ہےجو وضو ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کے شک میں پڑ کر نماز ہی ضائع کر دیتے ہیں۔یہ ہدایت ایسے لوگوں کے لئے ہے جن کی حس بوجہ بواسیر بادی وغیرہ بیماریوں کے تیز ہو جاتی ہے اور انہیں ہر وقت محسوس ہوتا ہے کہ ہوا خارج ہو رہی ہے۔باب ٥ : التَّخْفِيْفُ فِي الْوُضُوءِ ہلکا وضو کرنا ۱۳۸ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ۱۳۸: ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ أَخْبَرَنِي نے عمرو سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔انہوں أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی نے کہا: گریب نے مجھے بتلایا۔انہوں نے حضرت ابن كُرَيْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أ عباس سے روایت کی کہ نبی ﷺ سو گئے یہاں تک کہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ صَلَّى آسا گہری سانس لینے لگے۔پھر اس کے بعد آپ نے وَرُبَّمَا قَالَ اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ قَامَ نماز پڑھی۔اور کبھی سفیان نے یہ کہا کہ آپ لیٹ گئے فَصَلَّى، ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ مَرَّةً بَعْدَ یہاں تک کہ آپ گہری سانس لینے لگے۔پھر آپ اُٹھے