صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 225 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 225

صحيح البخاري - جلد ا ۲۲۵ - كتاب الوضوء وجہ سے ان میں ایک نور پیدا ہوگا اور وہ تمام قوموں میں ممتاز ہوں گے۔باب کے عنوان کا مفہوم بالکل ظاہر ہے کہ وضو کی فضیلت ان پاکیزہ اثرات کی وجہ سے ہے جو وہ نماز کے ساتھ مل کر نفس میں پیدا کرتا ہے اور یہ اثرات جو اس دنیا میں ایک مخفی صورت رکھتے ہیں، قیامت کے دن ظاہر آنورانی تجلیات میں نمایاں ہو جائیں گے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی۔دوسرا سوال موت کے بعد انسان کی کیا حالت ہوتی ہے۔صفحہ ۸۲ تا ۱۰۰- روحانی خزائن جلده اصفه۳۹۶ تا ۴۱۴) فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ اَنْ يُطِيْلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ : حضرت ابو ہریرہ کی روایت جو یہاں بیان کی گئی ہے ان کے علاوہ دس اور صحابہ نے بھی اسے بیان کیا ہے۔مگر ان کی روایتوں میں فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلُ کے الفاظ نہیں ہیں۔اس سے امام ابن جزر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ استنباط خود حضرت ابو ہریرہ کا معلوم ہوتا ہے۔چنانچہ امام احمد بن حنبل نے نعیم مجمر سے جو روایت فلیح کی سند سے نقل کی ہے اس میں یوں ہے نعیم کہتے تھے میں نہیں جانتا کہ یہ الفاظ حضرت ابو ہریرہ کے ہیں یا نبی ﷺ کے۔(مسند احمد بن حنبل جزء ثانی صفحه ۳۳۴) ( فتح الباری جزء اول صفحه ۳۱) مسلم وغیرہ کی روایتوں میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہا مسجد کی چھت پر اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اور پاؤں کو گھٹنوں تک دھو رہے تھے تو نعیم نے ان سے اس کی وجہ پوچھی۔جواب میں حضرت ابو ہریرہ نے مندرجہ بالا حدیث ان سے بیان کی۔(مسلم۔كتاب الطهارة باب استحباب إطالة الغرّة) اگر چہ امام ابن حجر " کا استدلال اپنے ساتھ قومی قرائن رکھتا ہے کہ مذکورہ بالا الفاظ حضرت ابو ہریرہ کے ہیں۔لیکن اس امر کی بھی گنجائش موجود ہے کہ یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے سمجھے جائیں۔کیونکہ صحابہ سے یہ امر بعید معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنے خیال کی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلی کھلی سنت کے خلاف عمل درآمد کریں۔جیسا کہ امام ابن حجر کے استدلال کی بناء پر مانا پڑے گا کہ حضرت ابو ہریرہ نے ایسا کیا۔اس لئے قرین قیاس یہی ہے کہ انہوں نے یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے مگر مفہوم سمجھنے میں ان سے غلطی ہوئی۔فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيْلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ یعنی تم میں سے جو شخص اپنی روشنی بڑھا سکے وہ بڑھائے۔یہاں روشنی بڑھانے سے مراد ہمیشہ باوضور بنے کی تاکید ہے۔اکثر صحابہ اس کا یہی مطلب سمجھتے تھے۔لیکن حضرت ابو ہریرہ نے یہ سمجھا ہے کہ ہاتھ پاؤں کی روشنی بڑھانے سے یہ مراد ہے کہ ہاتھ پاؤں بڑھا بڑھا کر دھوئے جائیں۔مگر یہ مفہوم نہ صرف صحابہ ہی کے سمجھنے اور ان کے عمل درآمد کے برخلاف ہے بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عام عمل کے بھی برخلاف ہے۔آپ کا باوجود باوضو ہونے کے وضو کر لینا یا اوقات نماز کے علاوہ دیگر اوقات میں وضو کر لینا اور ہاتھ پاؤں کو حضرت ابو ہریرہ کی طرح نہ دھونا ز بر دست دلیل ہے، اس امر کی کہ حضرت ابو ہریرہ سے حدیث مذکورہ کا مطلب سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔نیز یہ استدلال قرآن مجید کے بھی خلاف ہے کیونکہ کہنیوں اور ٹخنوں کے اوپر مقام وضو ہی نہیں اور ان کی غلطی دونوں صورتوں میں تسلیم کرنی پڑے گی۔اس صورت میں بھی کہ الفاظ مذکورہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سمجھے جائیں اور اس صورت میں بھی کہ جس کی طرف امام ابن حجر گئے ہیں، یعنی الفاظ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيْلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں ہیں بلکہ خود حضرت ابو ہریرہ کا اپنا استنباط ہے جو انہوں نے غُوا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ سے کیا ہے۔