صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 224
صحيح البخاري - جلد ا ۲۲۴ - كتاب الوضوء ہے کہ تا مسلمان کی نظر سے نماز کا اصل مقصد اوجھل نہ ہو جائے۔تمیم کے لیے پاکیزہ مٹی بھی اس لیے تجویز کی گئی ہے کہ وہ ہر جگہ پائی جاتی ہے اور وہ پانی کے ساتھ مل کر زندگی کی نشو ونما کا سبب ہوتی ہے۔اسلامی وضو کے جتنے ارکان ہیں، وہ اپنے اندر ایک معنوی اشتراک بھی رکھتے ہیں۔حدث کی حالتیں جسم سے گندگی کے دور ہونے پر نیز وضواور تیم کے عناصر ؟ پاکیزگی اور زندگی کے حصول اور اس کے نشو و نما پر دلالت کرتے ہیں۔نفس کی پاکیزگی پر روحانی نشو ونما کا دارو مدار ہے۔نماز اس کی تعمیل کی متکفل اور وضو اس کے لیے بطور ایک تمہیدی نشان کے ہے۔فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا میں اس غرض و غایت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔صَعِيدًا کا مصدر صَعُود ہے جو ارتقاء پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ طیبا کا لفظ پاکیزگی اور صلاحیت پر۔بَابِ : فَضْلُ الْوُضُوءِ وضو کی فضیلت وَالْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ اور وہ لوگ جن کی پیشانیاں وضو کے آثار سے چمکتی ہوں گی اور ہاتھ پاؤں روشن ہوں گے۔١٣٦ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ :١٣٦ ہم سے یحی بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے خالد سے، خالد نے سعید أَبِي هِلَالٍ عَنْ نُعَيْمِ الْمُجْمِرِ قَالَ بن ابی ہلال سے ،سعید نے نعیم مجمر سے روایت کی۔رَقِيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى ظَهْرِ انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابو ہریرۃ کے ساتھ مسجد الْمَسْجِدِ فَتَوَضَّأَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ کی چھت پر چڑھا اور انہوں نے وضو کیا اور کہا: میں النَّبِيَّ ﷺ يَقُوْلُ إِنَّ أُمَّتِي يُدْعَوْنَ يَوْمَ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میری الْقِيَامَةِ غُرَّا مُحَجَّلِيْنَ مِنْ آثَارِ اُمت کی پیشانیاں وضو کے آثار سے چمکتی ہوں گی الْوُضُوْءِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيْلَ اور ہاتھ پاؤں روشن ہوں گے جبکہ لوگ قیامت کے دن بلائے جائیں گے۔پس تم میں سے جو بھی اپنی غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ۔تشریح: روشنی بڑھا سکے تو چاہیے کہ وہ بڑھائے۔اَلْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ : الغُرَّةُ گھوڑے کی پیشانی کی سفیدی اور تخجیل اس کے ( ہاتھ ) پاؤں کی سفیدی۔یہ اصیل گھوڑے کی علامت ہوتی ہے۔سفید پیشانی والے گھوڑے کو اغر کہتے ہیں اور غو جمع ہے۔اور سفید پنڈلیوں والے گھوڑے کو مُحَجَّل کہتے ہیں۔مُحَجَّلُونَ جمع ہے۔مراد یہ ہے کہ قیامت کے روز وضو کی