صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 206 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 206

صحيح البخاري - جلد ) ۲۰۶ ٣- كتاب العلم باب ٤٦ : السُّؤَالُ وَالْفُتْيَا عِنْدَ رَمْيِ الْحِمَارِ کنکریاں پھینکتے وقت سوال کرنا اور فتوی دینا ١٢٤ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۲۴ : ہم سے ابونعیم نے بیان کیا کہا: عبدالعزیز بن ابی عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ سلم نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے زہری سے ۔ زہری نے عیسیٰ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نی بن طلحہ سے ۔ عیسیٰ نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے صلى الله علية روایت کی۔ انہوں نے کہا : میں نے نبی ﷺ کو جمرہ عَمْرٍو قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ (عقبہ) کے پاس دیکھا، جبکہ آپ سے مسئلے پوچھے وَسَلَّمَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ وَهُوَ يُسْأَلُ فَقَالَ جارہے تھے۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ میں نے کنکر پھینکنے سے پہلے قربانی کر دی ہے۔ آپ نے فرمایا: رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ (اب) پھینک لے۔ کوئی حرج نہیں۔ دوسرے نے کہا: یا أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ آخَرُ يَا رسول اللہ ! میں نے قربانی کرنے سے پہلے سرمنڈوا لیا رَسُوْلَ اللهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ قَالَ ہے۔ آپ نے فرمایا: (اب) قربانی کرلے کوئی حرج انْحَرْ وَلَا حَرَجَ فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ نہیں ۔ آپ سے کوئی بات بھی ایسی نہیں پوچھی گئی جس کو آگے پیچھے کیا گیا ہو۔ مگر آپ نے یہی فرمایا : (اب) قُدِمَ وَلَا أُخْرَ إِلَّا قَالَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ۔ کرلے اور کوئی حرج نہیں۔ اطرافه: ۸۳، ۱۷۳۶ ، 1۷۳۷، 1738، 6665۔ تشریح: باب (۴۶،۴۵) مستقل عنوانوں سے باندھ کر امام بخاری نے علم کے متعلق چونتیسویں اور پینتیسویں ادب کی طرف توجہ دلائی ہے۔ نیز دو ایسی باتوں کے جواز کا فتوی دیا ہے جن کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ بعض لوگ اس طرح کھڑے ہو کر عالم سے پوچھنا جائز نہیں سمجھتے ! سمجھتے اور نہ ہی ایسے وقت پوچھنا جائز سمجھتے ائز جھتے ہیں جب انسان کسی عبادت میں مشغول ہو ۔ امام بخاری نے ایسے اعمال کے اثناء میں پوچھنے اور جواب دینے کو جائز قرار دیا ہے جن میں خاص توجہ یا استغراق نہ ہو۔ مکہ استغراق نہ ہو۔ مگر الفاظ عِنْدَ رَمُيِ الْجَمَارِ سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بحالہ ہوتا کہ بحالت رمی الجمار آپ سے پوچھا گیا۔ ( فتح الباری جزء اول صفحه ۲۹۴)